قاھرہ مذاکرات: اسرائیلی وفد کے تین ناممکن مطالبات

ٹرمپ انتظامیہ کا حماس کو غیر مسلح کرنے کا دباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایک اسرائیلی وفد آج پیر کو مذاکرات کی تجدید کے لیے مصری دارالحکومت قاہرہ کے لیے روانہ ہوا امریکی دباؤ کی روشنی میں مذاکرات کو معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف لے جانے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔ عبرانی چینل 14 نے اسرائیلی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل مذاکرات کے نئے دور میں حماس کو تین اہم مطالبات پیش کرے گا۔ ان مطالبات میں حماس کے زیر حراست تمام یرغمالیوں کی رہائی، حماس کے عسکری ونگ اور اس کی جنگی صلاحیتوں کا خامتہ اور حماس رہنماؤں کی غزہ کی پٹی سے جلاوطنی شامل ہے۔

سیاسی ذرائع نے وضاحت کی کہ ان مطالبات کو ٹرمپ کی مکمل حمایت حاصل ہے کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ طویل مدتی سیاسی حل کے حصے کے طور پر حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتی ہے۔

پچھلے وفود کے برعکس نئے وفد کی سربراہی بریگیڈیئر جنرل گال ہرش کر رہے ہیں جو قیدیوں اور لاپتہ افراد کے محکمے کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے پہلے قطری فریق کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کی تھی۔ یہ تبدیلی مذاکراتی ٹیم کی تنظیم نو کا حصہ ہے کیونکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے شن بیٹ کے سربراہ رونن بار اور میجر جنرل نطزان ایلون دونوں کو کشیدہ تعلقات کی روشنی میں مذاکرات سے باہر کر دیا تھا۔ موساد کے سربراہ ڈیڈی بارنیا اب بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔

وفد کی قاہرہ روانگی کے ساتھ ساتھ اسرائیلی سیاسی اور سلامتی کونسل کا آج شام 6:30 بجے تل ابیب کی عمارت "کریا" میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں مذاکرات کے طریقہ کار اور معاہدے کے اگلے مرحلے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جاری فوجی ڈیل آپریشن کے حوالے سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قافلوں کو متعارف کرانے کے معاملے پر بھی غور کیا جائے گا۔

اگرچہ ایسا لگتا ہے کہ ان مطالبات پر اسرائیل اور امریکی ہم آہنگی موجود ہے تاہم مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیفن وٹ کوف نے اتوار کو کہا تھا کہ "اسرائیل" اور "حماس" کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ برقرار ہے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ معاہدے کا دوسرا مرحلہ یقینی طور پر شروع ہوگا۔

وٹکوف نے فاکس نیوز کو وضاحت کی ہے کہ انہوں نے آج پیر کی صبح اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو، قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی اور مصری انٹیلی جنس چیف حسن رشاد سے رابطے کیے ہیں۔ انہوں نے خطے کے حکام کے ساتھ اس ہفتے کسی مقام پر بات چیت جاری رکھنے کے بارے میں بھی بات کی۔ اس مقام کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔

غزہ معاہدے کا دوسرا مرحلہ

وٹ کوف نے مزید کہا کہ غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی ترتیب کے بارے میں مشرق وسطیٰ کے حکام کے ساتھ ان کے رابطے بہت تعمیری تھے۔ انہوں نے کہا دوسرا مرحلہ زیادہ پیچیدہ ہو گا کیونکہ اس میں جنگ کا خاتمہ، حماس کی حکومت میں عدم شرکت اور غزہ سے اس کا اخراج شامل ہے۔

امریکی ایلچی نے انکشاف کیا کہ بات چیت میں دوسرے مرحلے کی ترتیب اور دونوں فریقوں کی پوزیشنوں کا تعین کیا گیا ہے تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ ہم آج کہاں کھڑے ہیں۔ پھر اس ہفتے بات چیت کو ایک ایسی جگہ سے جاری رکھیں گے تاکہ ہم جان سکیں کہ دوسرے مرحلے کے کامیابی کے ساتھ اختتام تک کیسے پہنچنا ہے۔

مذاکرات جاری رکھنے کے لیے امریکہ کے دباؤ کے باوجود اسرائیلی اندازے بتا رہے ہیں کہ حماس کے پیش کردہ مطالبات پر رضامندی کے امکانات بہت کم ہیں جس سے لڑائی کا دوبارہ شروع ہونے کے خطرات بھی ہیں۔ اسرائیلی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فریق فوجی کارروائیوں میں واپس آنے سے قبل ممکنہ طور پر یرغمالیوں کی سب سے بڑی تعداد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا ۔ سابق فارمولے کے مطابق مزید قیدیوں کی رہائی کے بدلے معاہدے کے پہلے مرحلے میں توسیع کی تجویز بھی دی جا سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ کے الٹی میٹم میں بتائی گئی ڈیڈ لائن کی میعاد ختم ہونے کے بعد اب بھی لڑائی کے دوبارہ شروع ہونے کے وقت کے بارے میں ابہام موجود ہے لیکن اسرائیل میں توقعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اگلا دور پچھلے مراحل سے زیادہ پرتشدد ہوگا۔ ایسا اس لیے بھی ہوگا کہ غزہ میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی کو مکمل امریکی حمایت حاصل ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں