آسٹریلیوی وزیرِ اعظم کی مسلم خواتین پر مبینہ حملے کی مذمت

دیر سے مذمت کرنے پر ملک کے رہنما تنقید کی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانی نے بدھ کے روز ایک شاپنگ سینٹر میں دو مسلم خواتین پر "قابلِ مذمت" حملے کی مذمت کی اور اس تنقید کو مسترد کیا ہے کہ یہود دشمنی کی نسبت اسلاموفیا کو کم سنجیدہ لیا گیا۔

ملک کی اسلامی برادری جس میں ٹیسٹ کرکٹر عثمان خواجہ شامل ہیں، نے 13 فروری کو میلبورن میں ہونے والے واقعے کو مسلمانوں کے خلاف دھمکیوں پر حکومت کے ناکافی ردِ عمل کی ایک مثال قرار دیا ہے۔

اگر یہ واقعہ یہود مخالف ہوتا تو کیا حکومت زیادہ تیزی سے ردِ عمل ظاہر کرتی، اس سوال پر البانی نے صحافیوں کو بتایا کہ لوگوں پر ان کے عقیدے کی وجہ سے حملہ "قابلِ مذمت" تھا۔

انہوں نے کہا، "میں عقیدے کی بنیاد پر لوگوں پر ہونے والے تمام حملوں کو سنجیدگی سے لیتا ہوں اور ان سب کو قانون کی پوری طاقت کا سامنا کرنا چاہیے۔"

اس ہفتے کے شروع میں البانی کو اس حملے کی جلد مذمت نہ کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

آسٹریلوی رہنما حالیہ مہینوں کے دوران یہود مخالف واقعات کے ایک سلسلے کی مذمت کرتے ہوئے آواز اٹھا رہے ہیں جن میں غنڈہ گردی کرنے والوں نے سڈنی کے ایک چائلڈ کیئر سنٹر کو نذرِ آتش کیا ہے، میلبورن کی ایک یہودی عبادت گاہ پر آگ لگانے والے بموں سے حملہ کیا اور یہودی محلوں میں دیواروں پر یہود مخالف پینٹنگ بنائیں۔

لیکن پیر کے روز آسٹریلین فیڈریشن آف اسلامک کونسلز نے مسلمان لوگوں کے خلاف حملوں کے رجحان پر پریشانی کا اظہار کیا۔

فیڈریشن کے صدر راتب جنید نے ایک بیان میں کہا کہ آسٹریلوی ردِ عمل "مکمل طور پر ناکافی ہے"۔

انہوں نے کہا، "جب دوسری کمیونٹیز کو متأثر کرنے والے کم سنگین واقعات پر تیز رفتار اور نمایاں توجہ دی جائے تو ردِ عمل میں یہ تفاوت نہ صرف ظاہر بلکہ ناقابلِ قبول بھی ہے۔"

ملک کے اسلامو فوبیا مخالف ایلچی آفتاب ملک نے منگل کو آسٹریلوی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ حملے کی مذمت اور مسلمانوں کو تحفظ کا احساس دلانے کے لیے اقدامات کریں۔

انہوں نے بعد میں آسٹریلوی براڈکاسٹر اے بی سی کو بتایا، "ہر قسم کی نفرت کو روکنے کی ضرورت ہے۔"

عثمان خواجہ نے منگل کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ اسلامی برادری پر اس طرح کے حملوں کو "قالین کے نیچے دھکیلا جا رہا تھا۔"

تاہم بدھ کے روز انہوں نے اس معاملے پر البانی اور ملک کے قائدِ حزبِ اختلاف کے اس موضوع پر "بات کرنے" کا خیرمقدم کیا۔

وکٹوریہ پولیس نے بدھ کو کہا کہ ایک خاتون مشتبہ شخص مبینہ حملہ کے سلسلے میں میلبورن مجسٹریٹ کورٹ میں پیش ہو گی۔

حملے میں ایک 30 سالہ اور ایک 26 سالہ دو مسلم خواتین کو مبینہ طور پر غیر مہلک زخم آئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں