امریکا چین میں اپنے سفارتی مشن کے حجم میں 10% تک کمی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ بات چینی اخبار South China Morning Post نے بدھ کے روز با خبر ذرائع کے حوالے سے بتائی۔
چین اور ہانگ کانگ میں کام کرنے والے امریکی سفارت کاروں اور مقامی ملازمین کو اس حوالے سے نوٹفکیشن کل جمعے کے روز جاری کیا جائے گا۔ اخبار نے اس اقدام کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔
اخبار کے مطابق حجم میں کمی کے دائرے میں بیجنگ میں سفارت خانے اور گوانگشو، شنگھائی، شن یانگ اور ووہان کے قونصل خانوں کے علاوہ ہانگ کانگ کا قونصل خانہ بھی شامل ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا ان افراد کو سفارت کاری کے شعبے میں دیگر ملازمتوں پر تعینات کیا جائے گا۔ البتہ ان میں سے متعدد افراد کی برطرفی متوقع ہے۔
ذرائع نے گذشتہ ہفتے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملازمین کی تعداد میں کمی کے لیے تیار رہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
چین میں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانوں سے متعلق ویب سائٹ کے مطابق بیجنگ میں امریکی سفارتی کمپلیکس میں 1300 سے زیادہ امریکی اور مقامی ملازمین کام کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق 50 کے قریب مختلف امریکی وفاقی ایجنسیوں سے ہے۔