ٹرمپ کا منصوبہ غزہ کے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا نہیں: امریکی ایلچی

غزہ کے مستقبل کے بارے میں بات چیت فلسطینیوں کو مستقبل بہتر بنانے کے طریقے کی طرف منتقل ہو رہی: سٹیفن وٹ کوف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیفن وِٹکوف نے جمعرات کو کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے غزہ کے منصوبے کا مقصد فلسطینیوں کو بے گھر کرنا نہیں ہے۔ غزہ کے مستقبل کے بارے میں بات چیت اس طرف منتقل ہو رہی ہے کہ فلسطینیوں کے لیے بہتر مستقبل کیسے تلاش کیا جائے۔

وِٹکوف نے میامی میں ایک کانفرنس کے دوران ایک تقریر میں کہا کہ جب صدر اس بارے میں بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر ایک کو یہ سوچنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ فلسطینی عوام کے لیے بہترین حل کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مثال کے طور پر کیا وہ وہاں کسی گھر میں رہنا چاہتے ہیں یا کیا وہ بہتر جگہ پر جانے کا موقع حاصل کرنا پسند کریں گے تاکہ نوکریاں، کاروبار کے مواقع اور بہتر مالی امکانات حاصل کر سکیں؟ اس سے قبل ایکسیوس نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی وزیر سٹریٹجک امور رون ڈرمر جمعرات کو امریکہ میں وائٹ ہاؤس کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی سٹیو وِٹکوف سے ملاقات کریں گے تاکہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے اور قیدیوں کی رہائی پر بات چیت شروع کی جا سکے۔

غزہ میں سات اکتوبر 2023 سے شروع جنگ کو بند کرنے کا معاہدہ 19 جنوری 2025 کو نافذ العمل ہوتا تھا۔ اس معاہدے کے 42 روزہ پہلے مرحلے کے دوران جنگ بندی کے بعد سے غزہ سے 19 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا۔ بدلے میں لگ بھگ 1100 فلسطینی قیدی بھی رہائی پا چکے ہیں۔ جنگ بندی معاہدے کا جاری پہلا مرحلہ یکم مارچ کو ختم ہو رہا ہے۔ اس مرحلے میں 33اسرائیلی یرغمالیوں اور 1900 کے قریب فلسطینی قیدی رہا کرنے کا طے ہوا تھا۔

حماس نے بدھ کے روز کہا تھا کہ وہ پہلے مرحلے کے باقی رہ جانے والے اسرائیلی یرغمالیوں کو "ایک ساتھ" رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔ دو مارچ سے شروع ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں جنگ کو مکمل طور پر بند کرنے کی بات کی گئی تھی تاہم پہلے مرحلے کے دوران حماس اور اسرائیل ایک دوسرے کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔ معاہدے کا تیسرا اور آخری مرحلہ تباہ شدہ غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے حوالے سے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں