امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کا کہنا ہے کہ شمالی اوقیانوس کے اتحاد "نیٹو" میں یوکرین کی شمولیت مناسب نہیں ہے۔
والٹز نے کہا کہ وہ یوکرین کو نیٹو اتحاد کے اندر نہیں دیکھ رہے۔
اتوار کی شام "فوکس نیوز" کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے روس یوکرین جنگ کی ذمے داری ماسکو پر عائد کرنے سے گریز کیا۔ اگرچہ 22 فروری 2022 کو شروع ہونے والی جنگ کا آغاز روس نے ہی کیا تھا۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگزیتھ نے 3 برس سے جاری جنگ کے حوالے سے پوچھے گئے اس سوال کا براہ راست جواب دینے سے اجتناب کیا کہ جنگ شروع کس نے کی۔
انھوں نے اس مسئلے کو محض ٹرمپ کی طرف سے امن کے قیام کی کوششوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔
دریں اثنا دونوں اعلی عہدے داران نے زور دیا کہ امریکی صدر پوری دنیا میں بالخصوص یوکرین میں جنگوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے دو ہفتہ قبل صراحت کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ یوکرین کی نیٹو اتحاد میں شمولیت غیر حقیقی ہے۔ بعد ازاں ایک بیان میں امریکی صدر نے آگے بڑھ کر یہاں تک کہہ دیا کہ اس (نیٹو) اتحاد اور کئیف نے ماسکو کو اشتعال دلایا۔
ٹرمپ نے اس امکان کا عندیہ بھی دیا کہ یوکرین اپنی تھوڑی اراضی سے دست بردار ہو جائے گا اور 2014 سے پہلے کی سرحدوں پر واپسی ممکن نہیں ہو گی۔ یہ موقف روس کے ساتھ امن کی کوششوں کے سلسلے میں سامنے آیا تا کہ 2022 سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو سکے۔ ٹرمپ کے اس موقف پر یوکرین کی جانب سے تنقید اور یورپی ممالک کی جانب سے تشویش سامنے آئی۔
-
یورپی برطانوی رہنماؤں کا ٹرمپ کی موجودگی میں یوکرین میں منصفانہ امن پر زور
برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے یوکرین ...
بين الاقوامى -
یوکرین کو دی گئی امداد کی' منی بیک گارنٹی چاہتے ہیں : ڈونلڈ ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم یورپی اتحادی یوکرین کو تین سالہ جنگ میں اب تک دی ...
بين الاقوامى -
روسی لڑاکا طیاروں کے حصول کے لیے ایران کی امیدیں پھر سے روشن ہو گئیں ؟
ایران کے جنوب میں بندر عباس کے فوجی اڈے سے روسی ساختہ جدید لڑاکا طیارے "سوخوی-57" ...
بين الاقوامى