جمعے کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اور ان کے یوکرینی ہم منصب ولودومیر زیلنسکی کے درمیان ہونے والی شدید تلخ کلامی اور گرما گرمی کے بعد ایک اعلی امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ پانی سر سے اوپر جا چکا ہے۔
آج ہفتے کے روز ایک بیان میں مذکورہ عہدے دار کا کہنا تھا کہ زیلنسکی کے ساتھ ٹرمپ کا تعلق بظاہر اب نا قابل اصلاح دکھائی دے رہا ہے، کم از کم جب تک زیلنسکی صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔
زیلنسکی کا استعفاء
امریکی نیوز چینل CNN کے مطابق امریکی انتظامیہ کے اس عہدے دار نے یوکرین کے صدر کے مستعفی ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ بات واضح نہیں ہے کہ فریقین کے بیچ متبادل تعلقات کس طرح بہتر ہوں گے۔ البتہ عہدے دار نے باور کرایا کہ "اس خراب صورت حال کی درستی کے لیے زیلنسکی کو کوئی طریقہ تلاش کرنا ہو گا"۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز دنیا بھر کے سامنے چھڑنے والی غیر معمولی تلخ کلامی اور جھگڑا ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان مسلسل تناؤ اور تنقید کے کئی ہفتوں بعد سامنے آئی ہے۔ بالخصوص ٹرمپ کی جانب سے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین کو ٹیلی فون کال اور ریاض میں دو ہفتے کے اندر روسی اور امریکی وفود کی ملاقات کے بعد.
-
ٹرمپ اور زیلنسکی کے جھگڑے کے دوران یوکرین کی خاتون سفیر پریشان، تصاویر وائرل
ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان جمعہ کے روز تاریخی جھگڑا ہوا۔ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ...
بين الاقوامى -
پوتین زیر لب مسکرا رہے، ٹرمپ اور زیلنسکی مشکل میں اور یورپ چوکنا ہوگیا
اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ اور ان کے یوکرینی ہم منصب زیلنسکی کے درمیان ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ کا یوکرین کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی روک دینے پر غور
گذشتہ روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اور ان کے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی کے ...
بين الاقوامى