امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے یوکرینی ہم منصب زیلنسکی کے درمیان گرما گرم ملاقات کے اگلے روز نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے اس ملاقات کو بدقسمتی قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان ڈرامائی جھڑپ کے بعد انہوں نے یوکرینی صدر سے ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کی مرمت کرنے کو کہا ہے۔
روٹے نے برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) کو کہا ہے کہ یوکرین میں "پائیدار امن" کو محفوظ بنانے کے لیے امریکہ، یوکرین اور یورپ کو تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ یوکرینی رہنما کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جھڑپ کے ایک دن بعد مارک روٹے نے صدر زیلنسکی سے اب دو بار فون پر بات کی اور کہا ہمیں یوکرین میں دیرپا امن کے حصول کے لیے امریکہ، یوکرین اور یورپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔
ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے یورپی یونین پر ماسکو کے ساتھ براہ راست بات چیت شروع کرنے پر زور دیا۔ وکٹر اوربان نے کہا کہ وہ اگلے سربراہی اجلاس میں جنگ سے متعلق یونین کی سطح پر کسی بھی معاہدے کی مخالفت کریں گے۔
وکٹر اوربان نے 27 رکنی یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کے نام خط میں لکھا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ امریکہ کی طرح یورپی یونین کو بھی یوکرین میں جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے روس کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنا چاہیے۔
واضح رہے امریکہ اور یوکرین کے صدور کے درمیان گزشتہ روز دنیا کے سامنے غیر معمولی جھگڑا شروع ہوا تھا۔ یہ جھگڑا دونوں افراد کے درمیان کئی ہفتوں کی کشیدگی اور تنقید کے بعد سامنے آیا تھا۔