مصر کا منصوبہ جامع ہے اور ہم غزہ میں روشن مستقبل کے خواہاں ہیںِ: قطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

قطر نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں غزہ کے مستقبل کے حوالے سے منعقدہ عرب سربراہ اجلاس کے موقعے پر مصر کی طرف سے پیش کردہ فارمولے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور محمد الخلیفی نے زور دے کر کہا کہ قاہرہ کی تجویز میں جامع خصوصیات کی حامل ہے۔

انہوں نے العربیہ/الحدث کو آج منگل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کا حل پورے خطے کے مفاد میں ہے اور یہ کہ غزہ کا مسئلہ سب سے پہلے فلسطین اور عربوں کا مسئلہ ہے۔

اصلاحات کا طریقہ

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کے مستقل حل کے لیے اصلاحات کا راستہ نکالا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہاکہ "ہمیں امید ہے کہ فلسطینی ایک متفقہ فیصلے تک پہنچنے کے لیے ساتھ کھڑے ہوں گے"۔

قطری عہدیدارنے مزید کہا کہ قطر ایک فلسطینی آواز تک پہنچنے کی کوشش میں مصر کی کوششوں کو سراہتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں خطے کے حل کے لیے ایک واضح روڈ میپ کی ضرورت ہے"۔

جبری نقل مکانی مسترد

الخلیفی نے واضح کیا کہ مصر کا منصوبہ غزہ کے مستقبل کا خاکہ پیش کرتا ہے اور اس میں بہت سی تفصیلات ہیں۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہاکہ "ہم فلسطینیوں کی جبری ھجرت کو قطعی طور پر قبول نہیں کرتے"۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے وقت اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ غزہ کا بحران جنگ بندی سے ختم نہیں ہوتا۔ غزہ میں جنگ بندی کو اہم مسائل کو حل کیے بغیر نہیں آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔

روشن مستقبل

قطری عہدیدار نے انکشاف کیا کہ تعمیر نو کے منصوبے میں حفاظتی انتظامات اور غزہ کے لیے ایک انتظامی حکومتی عمل شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "مصر کے منصوبے میں جامع خصوصیات ہیں اور ہم غزہ میں ایک روشن مستقبل کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔
غزہ کے حوالے سے نظریات کو یکجا کرنے کے لیے امریکہ اور عرب ممالک کے ساتھ براہ راست رابطہ ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "ہم نے مصر اور امریکہ کے ساتھ مل کر غزہ میں ایک معاہدے تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں