پاکستان: امریکہ-ایران امن معاہدہ یمن میں پیشرفت کی راہ ہموار کرتا ہے

اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ سیاسی عمل کی تجدید پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ-ایران امن معاہدے نے شرقِ اوسط تنازعات حل کرنے میں سفارت کاری کی اہمیت کو نمایاں کیا ہے اور اس سے یمن میں بھی برسوں کی جنگ کے بعد امن کی نئی کوششوں کا آغاز ہو سکتا ہے، پاکستان نے منگل کے روز کہا۔

یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن جو 2014 سے تنازعات میں گھرا ہوا ہے، حالیہ مہینوں میں بڑی دشمنیوں اور تجارتی جہازرانی پر حملوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے نسبتاً پرسکون دور سے گذر رہا ہے۔

یمن کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان نے کہا کہ حالیہ کشیدگی میں کمی سے یہ ظاہر ہوا کہ مذاکرات کے ذریعے تصفیہ قابلِ حصول ہے۔ انہوں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی زیرِ قیادت سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے موقع سے فائدہ اٹھائے اس سے پہلے کہ تازہ علاقائی کشیدگی سے پیش رفت کو نقصان پہنچے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندہ و سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو بتایا، "خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت نے کشیدگی کے خطرات اور سفارت کاری کی اہمیت دونوں کو نمایاں کیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا امن معاہدہ کشیدگی کم کرنے اور علاقائی استحکام کو آگے بڑھانے کا ایک خوش آئند موقع فراہم کرتا ہے۔"

احمد نے کہا کہ یمن کو مسلسل اہم سیاسی، اقتصادی اور انسانی چیلنجز کا سامنا رہا ہے لیکن انہوں نے نوٹ کیا کہ حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

"اہم مثبت پیشرفت اور نسبتاً پرسکون دورانیہ بشمول ملک کے اندر محاذوں پر بڑی دشمنیوں کی عدم موجودگی اور تجارتی جہازرانی پر کوئی حملہ نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے تصفیہ ممکن ہے،" انہوں نے کہا۔

انہوں نے جامع سیاسی تصفیہ کے پسِ پردہ نئی رفتار کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار امن صرف اقوامِ متحدہ کے ماتحت اور یمنی قیادت اور یمنی ملکیت کے عمل کے ذریعے ہی وجود میں آسکتا ہے جس میں تمام متعلقین شامل ہوں۔

پاکستانی ایلچی نے حوثیوں اور یمن کی حکومت کے درمیان تقریباً 1,600 قیدیوں اور نظربند افراد کے تبادلے کے حالیہ معاہدے کا بھی خیرمقدم کیا اور اسے اعتماد سازی کا ایک اہم اقدام اور اس بات کا ثبوت قرار دیا ہے کہ سفارت کاری کے ذریعے بامعنی پیش رفت ممکن ہے۔

احمد نے کہا، "ہمیں امید ہے کہ یہ مثبت رفتار پورے خطے میں دیرپا اثر اور یمن میں امن اور سیاسی عمل کی تجدید کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرے گی جس سے اس کے لوگوں کو استحکام اور ترقی کے فوائد حاصل ہوں گے۔"

انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال یمن کی حمایت میں متحد اور تعمیری کردار کو برقرار رکھے اور ملک میں مسلسل انسانی اور اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی مدد کا مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں