فرانس کے ایوانِ صدر نے کہا کہ صدر عمانویل ماکرون نے منگل کے روز پورے یورپ اور دیگر ممالک فوجی سربراہان پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی صورت میں یوکرین کے لیے "قابلِ اعتماد حفاظتی ضمانتوں کا تعین" کرنے کی غرض سے ایک منصوبہ تیار کریں۔
ان کی یہ اپیل پیرس میں 30 سے زائد اتحادی ریاستوں کے اعلیٰ حکام کے بند کمرے کے اجلاس میں سامنے آئی جب یوکرین نے ایک ماہ کی جنگ بندی کی امریکی تجویز کی توثیق کی اور سعودی عرب میں اہم بات چیت میں روس کے ساتھ فوری مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی۔
ماکرون نے امریکہ اور روس کے تعلقات میں واشنگٹن کی غیر متوقع پالیسی تبدیلی پر یورپی ردِ عمل کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کی ہے۔
پیرس اجلاس میں 34 ممالک کے نمائندگان موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق یورپ اور نیٹو سے تھا۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جاپان کے مندوب بھی شامل تھے۔
اس میں امریکہ کا کوئی نمائندہ نہیں تھا جو نیٹو کا اہم رکن ہے۔
ایلیسی محل کے مطابق ماکرون نے میٹنگ کو بتایا، "یہی وہ وقت ہے جب یورپ کو یوکرین کی حمایت کے لیے اپنا پورا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔"
فرانسیسی ایوانِ صدر کے مطابق ماکرون نے کہا، "امن مذاکرات میں تیزی کے پیشِ نظر یوکرین میں پائیدار امن کو حقیقت بنانے کی غرض سے قابلِ اعتماد سکیورٹی ضمانتوں کی وضاحت" کے لیے منصوبہ بندی شروع کرنا ضروری تھا۔
یوکرین میں حتمی جنگ بندی نافذ کرنے کے لیے ماکرون نے برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ ہمراہ "رضامند ممالک کا اتحاد" بنانے کی کوششوں کی قیادت کی ہے۔
ایلیسی کے مطابق یورپی اور نیٹو ممالک بشمول برطانیہ اور ترکی کے فوجی سربراہان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سلامتی کی ضمانتیں "نیٹو اور اس کی صلاحیتوں سے الگ نہ ہوں۔"
ایلیسی کے مطابق اس طرح کی ضمانتیں "قابلِ اعتماد اور طویل المدتی ہوں اور ان کے ساتھ یوکرین کی فوج کے لیے غیر متزلزل حمایت بھی ہونی چاہیے۔"
روس-یوکرین جنگ کے تین سال سے زیادہ عرصے کے بعد یورپ اپنے دفاع میں اضافہ کرنے اور امریکہ پر انحصار سے آزاد ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
ٹرمپ کے روسی رہنما ولادیمیر پوتن سے روابط کی تجدید اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر تنقید کرنے سے یہ معاملہ غیر مستحکم ہو گیا ہے جس سے یہ خدشہ ہے کہ امریکی صدر یوکرین کو روس کے حق میں سمجھوتہ قبول کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے کئیف کے ساتھ فوجی امداد اور انٹیلی جنس کا اشتراک معطل کر دیا حالانکہ ان کی انتظامیہ نے منگل کو یہ عندیہ دیا کہ وہ یوکرین کی طرف سے امریکی تجویز کی توثیق کے بعد یہ پابندی اٹھا لے گی۔
ماکرون نے بعد میں ایکس پر پوسٹ کیا، "اب فیصلہ کرنے کی باری واضح طور پر روس کی ہے" اور سعودی عرب میں امن مذاکرات میں ہونے والی "پیش رفت" کو سراہا۔
پیرس دفاعی اجلاس سے قبل فرانسیسی وزیرِ دفاع سیبسٹین لیکورنو نے کہا: "ہم یوکرین کو غیر فوجی بنانے کی کوئی بھی صورت مسترد کر دیں گے۔"
لیکورنو نے مزید کہا، "سوال صرف اس بارے میں سوچنے کا ہے کہ یوکرین کی فوج کو مستقبل میں کیا ہونا چاہیے۔"
ٹیم کے ایک رکن کے مطابق وہ جمعے کو دفاعی صنعت کاروں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔
یورپ کی پانچ بڑی فوجی طاقتوں فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور پولینڈ کے وزرائے دفاع بدھ کو فرانس کے دارالحکومت میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ یورپی یونین اور نیٹو کے نمائندے اور یوکرین کے وزیرِ دفاع بھی شرکت کریں گے۔
لیکورنو کے ایک معاون نے بتایا کہ یہ مذاکرات "یورپ کو ہتھیاروں کی ضروری فراہمی" اور یوکرین کو فوجی تعاون پر مرکوز ہوں گے۔
سٹارمر بدلے میں ہفتے کے روز ان اقوام کے رہنماؤں سے ورچوئل مذاکرات کی میزبانی کریں گے جو جنگ بندی کی حمایت میں مدد کے لیے تیار ہیں۔
ماکرون نے کہا ہے کہ یوکرین میں کسی بھی یورپی فوجی کو اسی وقت تعینات کیا جائے گا جب "اس بات کی ضمانت دینے کے لیے امن معاہدے پر دستخط ہو جائیں کہ اس کا مکمل احترام کیا جائے گا۔"
گذشتہ ہفتے یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین نے یورپ کے دفاع کے لیے تقریباً 800 بلین یورو (843 بلین ڈالر) جمع کرنے اور یوکرین کے لیے "فوری" فوجی امداد کی فراہمی کے منصوبے کا انکشاف کیا۔