سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے کہا ہے کہ سعودی عرب ارد گرد کے کچھ ممالک کے مقابلے میں اعلیٰ سطح کی میڈیا کی آزادی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ سعودی میڈیا میڈیا کی آزادی کا بہترین نمونہ ہے کیونکہ اس کی خصوصیت میں کنٹرولڈ آزادی شامل ہے۔
الدوسری نے روٹانا چینل پر اللیوان پروگرام میں ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب میں میڈیا کی آزادی کی حد اتنی کم نہیں ہے جیسا کہ بعض دعوے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا "ہم نے آزادیوں کو کنٹرول کیا ہے اور ہم آزادیوں کا غلط استعمال کو قبول نہیں کرتے"
سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب میں میڈیا کی آزادی کی سطح سعودی ثقافت کے لیے ایک مناسب سطح ہے۔ انہوں نے کہا سعودی میڈیا اداروں کے صحافیوں اور ان کے عہدیداروں میں ذمہ داری کا بہت زیادہ احساس ہے۔ الدوسری نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کا اعلیٰ ترین مشن نقائص کو اجاگر کرنے میں اس کے موروثی کردار میں شامل ہے کیونکہ تنقید میڈیا کا ایک فطری فریضہ ہے۔
اسی تناظر میں سعودی وزیر اطلاعات، جنہوں نے مارچ 2023 کے آغاز میں وزارت کا قلمدان سنبھالا، نے صحافیوں کو ذمہ دارانہ آزادی کا استعمال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا خاص طور پر ان علاقائی حالات کے حوالے سے جن سے کچھ ممالک گزر رہے ہیں اور عوامی مفادات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
سلمان الدوسری نے واضح کیا کہ حکومت کو پریس سے اپنی تعریف کی ضرورت نہیں ہے۔ سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان تعریف کو قبول نہیں کرتے اور خوشامد سے خوش نہیں ہوتے۔ اطلاعات کی وزارت اس کو کنٹرول کیے بغیر ضابطے میں لاتی ہے۔
دریں اثنا الدوسری نے سعودی ولی عہد کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کی کہانی کو یاد کیا جو 2014 میں سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز کے پیرس کے دورے کے دوران ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ شہزادہ محمد بن سلمان سے پہلی ملاقات ستمبر 2014 میں ہوئی تھی جب ہم نے ایک فرانسیسی ریسٹورنٹ میں لنچ کیا تھا اور ولی عہد نے سعودی ویژن 2030 کے بہت سے عناصر کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد واشنگٹن میں 2016 میں ہماری ملاقات ہوئی۔
دوسری جانب وزیر سلمان الدوسری نے نشاندہی کی ہے کہ سعودی ویژن 2030 کے اہداف نے دفاتر یا بین الاقوامی کمپنیوں سے مشاورت کے بغیر بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور یہ سب شہزادہ محمد بن سلمان کی سوچ کی بنا پر ہوا ہے۔