امریکی امیگریشن گرفتاری کے بعد محمود خلیل نے خود کو سیاسی قیدی قرار دے دیا
ان پر حماس کا تعلق کا الزام ہے جس کے ثبوت نہیں ہیں
کولمبیا یونیورسٹی کے فلسطینی گریجویٹ طالبِ علم محمود خلیل نے منگل کو اپنی حراست کے بعد اولین براہِ راست تبصروں میں خود کو ایک سیاسی قیدی قرار دیا۔ انہیں ٹرمپ انتظامیہ فلسطینی حامی مظاہروں میں ان کے کردار کی وجہ سے ملک بدر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکہ کے مستقل رہائشی خلیل کی حراست کو انسانی حقوق کے متعدد گروپوں نے آزادئ اظہار اور مناسب قانونی عمل پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایک خط میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے 100 سے زیادہ ڈیموکریٹک قانون سازوں نے حراست کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے۔
محکمہ انصاف کے وکلاء نے کہا ہے کہ 30 سالہ خلیل کو ملک بدری کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ سکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے طے کیا تھا کہ ان کی امریکہ میں موجودگی کے "خارجہ پالیسی پر منفی نتائج" ہو سکتے تھے۔
خلیل کا مقدمہ اس بات کی جانچ کر سکتا ہے کہ عدالتیں امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت محفوظ تقریر کا تعین کرتی اور اس کا حق دیتی ہیں جس کی شہریوں اور غیر ملکیوں کو یکساں طور پر ضمانت دی گئی ہے۔ اور عدالت مجلسِ عاملہ کے اس نظریئے پر بھی غور کرے گی کہ بعض احتجاج خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
خلیل نے منگل کو منظرِ عام پر لائے گئے ایک خط میں کہا، "میرا نام محمود خلیل ہے اور میں ایک سیاسی قیدی ہوں۔"
غزہ پر تازہ ترین اسرائیلی حملوں میں حکام کے مطابق 400 فلسطینی ہلاک ہوئے جن کا حوالہ دیتے ہوئے خلیل نے خط میں کہا، "میری گرفتاری میرے آزادانہ اظہار رائے کے حق کے استعمال کا براہِ راست نتیجہ تھی کیونکہ میں نے آزاد فلسطین اور غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کی وکالت کی تھی جو پیر کی رات مکمل طور پر دوبارہ شروع ہو گئی۔"
خلیل کے وکلاء نے ان کی فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خلیل گذشتہ سال امریکہ کے قانونی مستقل رہائشی بن گئے تھے۔ ان کی اہلیہ آٹھ ماہ کی حاملہ ہیں۔
آٹھ مارچ کو ان کی گرفتاری پر امریکہ کے مختلف شہروں بشمول نیویارک شہر میں منگل کو احتجاج ہوا جب سینکڑوں لوگوں نے ٹائمز سکوائر پر جمع ہو کر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
ٹرمپ نے فلسطینی حامی کارکنان کو ملک بدر کرنے کا عزم کیا ہے جنہوں نےغزہ جنگ کے خلاف امریکی کالج کیمپس میں احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ ٹرمپ نے الزام لگایا ہے کہ یہ مظاہرین یہود دشمن ہیں اور حماس کی حمایت کرتے ہیں۔
فلسطین کے حامی وکلاء بشمول بعض یہودی گروہوں نے کہا ہے کہ ناقدین کی غزہ جنگ پر تنقید کو غلط طور پر یہود دشمنی سے گڈمڈ کر دیا گیا ہے جبکہ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے ان کی حمایت کو حماس کی حمایت قرار دے دیا گیا ہے۔ خلیل نے خط میں کہا کہ ان کی گرفتاری فلسطینی مخالف نسل پرستی کی نشاندہی کرتی ہے۔
حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ خلیل کی موجودگی امریکی خارجہ پالیسی کو کیسے نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ٹرمپ نے بغیر ثبوت کے ان پر حماس کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔ خلیل کی قانونی ٹیم نے کہا ہے کہ ان کا حماس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔