امریکی وزارت خارجہ نے پیر کی شام باور کرایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران پر انتہائی دباؤ کی پالیسی جاری رکھے گی۔
وزارت خارجہ نے العربیہ نیوز کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر پابندیوں پر اکتفا نہیں کرے گی۔
مزید یہ کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی دھمکیوں پر اس سے زیادہ انتظار نہیں کرے گی۔
اس سے قبل پیر کے روز ایران نے باور کرایا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ یہ موقف ٹرمپ کی جانب سے نئے جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے جاری حتمی تنبیہ کے بعد سامنے آیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ "بالواسطہ مذاکرات کے لیے راستہ کھلا ہے"۔ البتہ انھوں واضح کیا کہ جب تک مقابل فریق کا طہران کے حوالے سے موقف تبدیل نہیں ہو جاتا اس وقت تک واشنگٹن کے ساتھ براہ راست بات چیت ممکن نہیں۔
عراقچی نے باور کرایا کہ انتہائی دباؤ یا دھمکی کے زیر اثر براہ راست مذاکرات میں داخل نہیں ہو گا۔
وائٹ ہاؤس میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والز نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ تہران کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے مکمل طور پر دست بردار ہو جائے، نہیں تو اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
امریکی چینل CBS نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے والز نے زور دیا کہ "یہ اس نوعیت کی کوئی چال نہیں ہے جو ہم نے باراک اوباما یا جو بائیڈن کے دور میں دیکھی"۔
والز کے مطابق ٹرمپ کے سامنے تمام راستے ہیں جن میں سفارت کاری بھی ہے۔
امریکی عہدے دار نے واضح کیا کہ "ایران 1979 کے بعد اپنی قومی سلامتی کے اعتبار سے بد ترین صورت حال میں ہے"۔
ٹرمپ کا خط
یاد رہے کہ ٹرمپ نے سات مارچ کو انکشاف کیا تھا کہ انھوں نے ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک خط تہران بھیجا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق وہ "جوہری جنگ بندی" پر مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم انھوں نے فوجی مقابلے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عُمان کے ذریعے ملنے والے خط کو دھمکی کے قریب قرار دیا۔
ایک امریکی ذمے دار اور دو با خبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے لیے ٹرمپ کے خط میں نئے جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے دو ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔
البتہ خامنہ ای نے جمعے کے روز ایک بار پھر یہ بات دہرائی ہے کہ امریکی دھمکیوں سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ انھوں نے اپنے ملک کے خلاف کسی بھی اقدام سے خبردار کیا۔
واشنگٹن نئے جوہری معاہدے کے حوالے سے بات چیت کے انعقاد کی دعوت پر ابھی تک وساطت کاروں کے ذریعے تہران کے سرکاری جواب کا منتظر ہے۔