الجزائر: بچوں کی کتابوں میں "فحش" کی اشاعت پر شدید عوامی رد عمل، حکومت نے نوٹس لے لیا
الجزائر میں بچوں کے لیے تیار کی گئی ایک سے زائد کتابوں میں فحش مواد کی موجودگی کی اطلاعات کے بعد ایک طرف عوامی حلقوم میں سخت رد عمل سامنےآیا ہے اور دوسری جانب حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پہلی بار ایک یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے متنازعے مواد کی اشاعت کا انکشاف کیا اور اس نے مجاز حکام کو اس حوالے سے مطلع کیا جس کے بعد حکومت نے اس کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
ان میں سے زیادہ تر کتابیں دارالحکومت الجزائر سے 422 کلومیٹر مغرب میں)کے "السانیا" شاپنگ مال میں فروخت کی گئیں، جہاں ان میں فحش تصاویر، گمراہ کن رویے، "شیطانی رسومات" کی عکاسی کرنے والی تصاویر اور نامناسب پوزیشنوں میں کردار شامل تھے۔
ان کتابوں کی بہت سی کاپیاں فروخت ہونے کے بعد یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے صورتحال سے آگاہ کیا اور مقامی صارف تحفظ ایسوسی ایشن کو ان کتابوں کے بارے میں مطلع کیا‘‘۔ اس کے بعد ایسوسی ایشن نے سکیورٹی سروسز اور پھر "السانیا" عدالت میں سرکاری وکیل کو مطلع کیا۔ عدالت کے حکم پر تمام متنازعہ کتابیں ضبط کرلی گئی ہیں۔
اس خبر نے الجزائر کے عوام میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑا دی۔ شہریوں کی طرف سے استفسار کیا گیا کہ کتابوں کی اشاعت کی نگرانی کیوں نہیں کی جارہی ہے۔بچوں کی کتابوں کی اشاعت کے مجاز حکام کدھر سوئے ہوئے ہیں اور والدین کہاں ہیں جن کے بچے اس طرح کی کتابیں خرید رہے ہیں؟‘‘۔ ایک صارف نے کہاکہ "بچوں کے لیے بنائے گئے تمام عنوانات پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔ تعلیم کی آڑ میں فحش مواد کو فروغ دینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے‘۔