امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے پر اتفاق مگر ٹیرف میں چھوٹ کا کوئی اشارہ نہیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارت اور امریکہ نے اس سال تجارتی معاہدے کی پہلی قسط مکمل کرنے پر اتفاق کیا ہےجس میں امریکی محصولات سے ہندوستانی درآمدات کے لیے ممکنہ استثنیٰ کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔

دونوں ممالک نے تجارتی مسائل پر اس ہفتے نئی دہلی میں بات چیت کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اعلان کردہ سخت ٹیرف،بشمول بھارتی مصنوعات پر ڈیوٹی 2 اپریل سے نافذ ہونے سے چند دن پہلے یہ بات چیت کی گئی ہے۔

بھارت کو ان 25 فی صد محصولات کے بارے میں بھی تشویش ہے جو واشنگٹن وینزویلا سے تیل خریدنے والے ممالک پر عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ہندوستانی وزارت تجارت نے ہفتے کی شام کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے نمائندے "2025 کے موسم خزاں تک پہلی قسط کو مکمل کرنے کے ہدف کے ساتھ باہمی طور پر فائدہ مند، کثیر شعبہ جاتی دو طرفہ تجارتی معاہدے کی جانب اگلے اقدامات پر ایک عام اتفاق رائے پر پہنچ گئے ہیں"۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک نے "ترجیحی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو تیز کرنے، خاص طور پر مارکیٹ تک رسائی، ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو کم کرنے اور سپلائی چین کے انضمام کو بڑھانے پر" تبادلہ خیال کیا۔

تاہم بیان میں امریکی ٹیرف کے حوالے سے کسی ٹھوس کارروائی کا ذکر نہیں کیا گیا جو منگل سے نافذ العمل ہوں گے۔

انڈیا ریٹنگز اینڈ ریسرچ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ یہ ٹیرف اگلے مالی سال کے دوران امریکہ کو ہونے والی ہندوستانی برآمدات میں 7.3 ارب تک کو متاثر کر سکتے ہیں۔

دنیا کی پانچویں بڑی معیشت نے حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن کی طرف خیر سگالی کے آثار ظاہر کیے ہیں۔ خاص طور پر کچھ امریکی لگژری موٹرسائیکلوں اور بوربن وہسکی پر محصولات کم کرکا عندیہ دیا گیا۔

کچھ بھارتی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ حکومت آن لائن خدمات جیسے اشتہارات پر فیس ختم کرنے یا کاروں، الیکٹرانکس اور طبی خدمات پر کسٹم ڈیوٹی کم کرنے کی پیشکش کر سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size