امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے ایک سابق صدر باراک اوباما کے خلاف امیدوار بن کر بہت مسرت محسوس کریں گے۔ ٹرمپ نے چند روز قبل کہا تھا کہ انھوں نے تیسری بار صدارت کے لیے نامزدگی کی بات ازراق مذاق نہیں کہی تھی، اگرچ امریکی آئین میں اس کی ممانعت ہے۔
جب ایک صحافی نے وائٹ ہاؤس میں ایک کانفرنس کے دوران ٹرمپ سے پوچھا کہ اگر آپ تیسری مدت کے لیے امیدوار بننے کے قابل ہوئے تو کیا ڈیموکریٹس اوباما کو آپ کے خلاف نامزد کریں گے، اس پر ٹرمپ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا کہ وہ ان کے ساتھ مقابلہ کرنے میں بہت خوشی محسوس کریں گے۔
آئینی ترمیم میں خامی
معلوم رہے کہ امریکی آئین بالخصوص 22 ویں ترمیم میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص دو مرتبہ سے زیادہ صدر منتخب نہیں ہو سکتا۔
البتہ اس ترمیم میں موجود ایک خامی ٹرمپ کو موقع دے سکتی ہے کہ وہ آئین کی اس ممانعت سے بچ کر تیسری بار صدر بن جائیں۔ جی ہاں ، کیوں کہ آئین کی مذکورہ ترمیم جاں نشینی کے راستے صدارتی منصب سنبھالنے سے نہیں روکتی ہے۔ ٹرمپ اس آئینی ترمیم کی خامی کا عندیہ دے چکے ہیں۔
اس منظرنامے کے مطابق یہ ممکن ہے کہ 2028 میں صدارت کے لیے ٹرمپ کے نائب جے ڈی وینس کو صدارتی امیدوار کے طور پر نامزد کر دیا جائے جب کہ ٹرمپ کو نائب صدر کا امیدوار بنا دیا جائے۔
جیت کی صورت میں وینس اپنے منصب سے سبک دوش ہو کر باگ ڈور ٹرمپ کے حوالے کر سکتے ہیں۔ یہ بات امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بتائی۔
بعض قانونی ماہرین کے نزدیک آئینی ترمیم اس پر کوئی پابندی نہیں لگاتی ہے۔
اگر ٹرمپ نے یہ حکمت عملی اپنائی تو وہ 2029 کے بعد اور شائد 2037 تک وائٹ ہاؤس میں رہ سکتے ہیں۔
البتہ ٹرمپ کے مخالفین اس پلان کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے کہ یہ اقدام آئین کی 22 ویں ترمیم کی روح کے منافی ہے۔
تاہم بعض قانون دانوں کا غالب گمان ہے کہ ایسی صورت میں سپریم کورٹ آئین کے متن کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔ امکان ہے کہ عدالت لفظ "انتخاب کیا جائے گا" پر توجہ مرکوز کرے گی جو واضح طور پر جاں نشینی کے راستے سابق صدر کی واپسی کا راستہ نہیں روکتا ہے۔