اسرائیل ٹرمپ کے نئے ٹیرف منصوبے کے مطابق ضروری اقدامات کی تیاری کر رہا ہے، وزیر خزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر خزانہ بذالیل سموٹریچ نے کہا ہے کہ اسرائیل ٹرمپ کے نئے ٹیرف منصوبے کے مطابق ضروری اقدامات کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے ان خیالات جمعرات کے روز کیا ہے۔

محکمہ خزانہ کے حکام سے میٹنگ کے موقع پر سموٹریچ نے انہیں کہا کہ ایسا ایکشن پلان بنائیں جس پر امریکہ کی نئی ٹیرف پالیسی کے اثرات نہ آئیں۔

انہوں نے اس کا اہتمام امریکی صدر ٹرمپ کی حالیہ ٹیرف پالیسی کے پس منظر میں پیدا شدہ صورت حال میں کیا ہے۔

امریکی صدر دوسروں ملکوں کے ساتھ تجارت کے سلسلے میں ٹیرف پالیسی کو امریکہ کے لیے نئے سرے سے پلان کر رہے ہیں۔

امریکہ کی نئی ٹیرف پالیسی کی وجہ سے اسرائیلی مصنوعات پر امریکہ میں 17 فیصد ٹیرف لگنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں منسٹری کے حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ تاکہ اس معاملے سے نمٹا جا سکے۔

انہوں نے اس سلسلے میں معاشی شعبے کے اہم لوگوں کے ساتھ ملاقات کے بعد گفتگو کی۔ ملاقات میں امریکہ کی ٹیرف پالیسی کے سلسلے میں اسرائیل کے لیے مسائل اور مواقع کا جائزہ لیا گیا اور مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔

اسرائیل و امریکہ نے 40 سال پہلے 'فری ٹریڈ ایگریمنٹ' کر لیا تھا۔ جس کی وجہ سے امریکہ سے آنے والی 98 فیصد اشیاء اسرائیل میں ٹیکس فری ہیں۔

اسرائیلی وزیر خزانہ نے اس معاملے کا نوٹس لیا کہ امریکہ سے اسرائیل آنے والی اشیاء پر ٹیرف کس طرح لگ سکتا ہے۔

یاد رہے اسرائیل کے لیے آنے والی اس زرعی شعبے کی اشیاء پر سالانہ 11.3 ملین ڈالر کا ٹیکس لیا جاتا ہے۔

اسرائیل کی مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے صدر ران ٹومر نے امریکی نئی ٹیرف پالیسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا 'اس سے اسرائیلی معاشی استحکام کو نقصان پہنچے گا، غیر ملکی سرمایہ کاری کا امکان کم ہوگا اور اسرائیل کے لیے خاص مشکل یہ پیدا ہوگی کہ اسرائیل میں بیرونی سرمایہ کاری کا امکان کم ہو جائے گا۔

ٹومر نے کہا ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ کا ٹیرف کے سلسلے میں کیا گیا یہ فیصلہ لمبے عرصے تک جاری نہیں رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں