اسرائیل کے وزیر خارجہ نے فرانس کے دورے کے دوران جمعرات کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں اسرائیل و فرانس کے اہداف یکساں ہیں اور دونوں ملک چاہتے ہیں کہ ایران کو جوہری بم بنانے سے روکا جائے۔
واضح رہے امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک ایک عرصے سے ایران پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایران اس الزام کی ہمیشہ سے تردید کرتا آیا ہے اور اس کا اصرار ہے کہ اس کا یورینیئم کی افزودگی کا معاملہ توانائی کی ضرورتوں کے پیش نظر ہے اور یہ بالکل پر امن مقاصد کے لیے ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے ان خیالات کا اظہار رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی سب سے طاقتور اور انتہا پسند ایرانی حکومت کو یہ حق نہیں دیا جانا چاہیے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکا جائے۔
یاد رہے ایران نے 2015 میں امریکہ و پانچ دوسری اہم طاقتوں کے ساتھ مل کر اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ایک معاہدہ کر لیا تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ کے پہلے دور صدارت کے دوران ہی صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا تھا۔
اس کے بعد سے ایران کو مسلسل مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دوسری طرف اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جو مشرق وسطیٰ میں غیر اعلانیہ طور پر جوہری ہتھیار رکھتا ہے۔ تاہم اس کے جوہری پروگرام پر کوئی بات سننے کو کم ہی ملتی ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئیل بیرٹ سے جمعرات کی صبح ملاقات کی اور ان پر زور دیا کہ ایران صرف اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ بلکہ پورے خطے اور اس کے ہر ملک کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے اس دوران فرانس کے وزیر خارجہ سے ہونے والی اپنی ملاقات کا بطور خاص تذکرہ نہیں کیا ہے۔
-
اسرائیلی حکام: واشنگٹن ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کی تیاری کر رہا ہے
تہران کو امریکی دھمکیاں دی جارہی ہیں، اسی دوران اسرائیلی سیاست دانوں اور فوجی ...
بين الاقوامى -
ایران کی جوہری تنصیبات پر جلد بڑا حملہ ہو گا : رپورٹ
امریکی اور اسرائیلی ذمے داران کے مطابق آئندہ ہفتوں کے دوران میں ایران کو نشانہ ...
بين الاقوامى -
ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے باز رکھنے کے لیے سفارتی راستے کو مسترد نہیں کرتے: اسرائیل
تہران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ بات چیت کے امکانات کے اشارے مل رہے ہیں: وزیر ...
مشرق وسطی