ایرانی جوہری پروگرام ، اسرائیل و فرانس کے اہداف یکساں ہیں : اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل کے وزیر خارجہ نے فرانس کے دورے کے دوران جمعرات کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں اسرائیل و فرانس کے اہداف یکساں ہیں اور دونوں ملک چاہتے ہیں کہ ایران کو جوہری بم بنانے سے روکا جائے۔

واضح رہے امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک ایک عرصے سے ایران پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایران اس الزام کی ہمیشہ سے تردید کرتا آیا ہے اور اس کا اصرار ہے کہ اس کا یورینیئم کی افزودگی کا معاملہ توانائی کی ضرورتوں کے پیش نظر ہے اور یہ بالکل پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے ان خیالات کا اظہار رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی سب سے طاقتور اور انتہا پسند ایرانی حکومت کو یہ حق نہیں دیا جانا چاہیے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکا جائے۔

یاد رہے ایران نے 2015 میں امریکہ و پانچ دوسری اہم طاقتوں کے ساتھ مل کر اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ایک معاہدہ کر لیا تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ کے پہلے دور صدارت کے دوران ہی صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا تھا۔

اس کے بعد سے ایران کو مسلسل مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری طرف اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جو مشرق وسطیٰ میں غیر اعلانیہ طور پر جوہری ہتھیار رکھتا ہے۔ تاہم اس کے جوہری پروگرام پر کوئی بات سننے کو کم ہی ملتی ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئیل بیرٹ سے جمعرات کی صبح ملاقات کی اور ان پر زور دیا کہ ایران صرف اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ بلکہ پورے خطے اور اس کے ہر ملک کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے اس دوران فرانس کے وزیر خارجہ سے ہونے والی اپنی ملاقات کا بطور خاص تذکرہ نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں