ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے کہا ہے کہ یونائٹیڈ سٹیٹس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ (یو ایس ایڈ) کے کام کی معطلی سے 50 ممالک متاثر ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے ایچ آئی وی، تپ دق اور ملیریا سے نمٹنے کے پروگراموں کے لیے فنڈز میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا تنظیم کو اس سال 600 ملین ڈالر کا نقصان ہوگا۔
گیبریئس نے عالمی ادارہ صحت کی پالیسی میں تبدیلیوں کے بارے میں ایک کانفرنس میں کہا کہ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کی اچانک تحلیل ممالک میں افراتفری کا باعث بن رہی ہے۔ اس سے 50 ممالک اس وقت متاثر ہیں۔ اس سے ایچ آئی وی ، تپ دق، ملیریا، امیونائزیشن اور انسانی صحت کے پروگراموں میں شدید رکاوٹیں پیدا ہوگئیں۔
گیبریئس نے مزید کہا ہے کہ امریکہ اور دیگر رکن ممالک کی جانب سے فنڈز میں کٹوتیوں سے عالمی ادارہ صحت کو صرف اس سال تقریباً 600 ملین ڈالر کی آمدنی کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب ہمارے پاس اپنے کام اور افرادی قوت کے حجم کو کم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل نے بات جاری رکھی اور کہا کہ موجودہ صورتحال میں عالمی ادارہ صحت سے امریکہ کے انخلا کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے سخت محنت کی جارہی ہے۔ گریبیسس نے نوٹ کیا کہ 2017 سے جب وہ اپنے موجودہ عہدے پر منتخب ہوئے ہیں عالمی ادارہ صحت تبدیلی کے عمل کا مشاہدہ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے جن اہم خطرات کی نشاندہی کی ہے ان میں سے ایک ڈبلیو ایچ او کا امریکہ سمیت چند روایتی عطیہ دہندگان پر زیادہ انحصار ہے۔ اس خطرے سے نمٹنے اور عطیہ دہندگان کی بنیاد کو بڑھانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
-
یو ایس ایڈ کا خاتمہ: تنقیدی رپورٹ کے بعد انسپکٹر جنرل برطرف
ٹرمپ کی حالیہ کوششیں تمام دنیا میں تنقید کی زد میں ہیں
بين الاقوامى -
یو ایس ایڈ بند کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے نے ملازمین کی زندگیاں اُلٹ دیں
متاثرین میں حاملہ خواتین بھی شامل، ان کا بچے کی پیدائش کے لیے امریکہ جانے کا ...
بين الاقوامى -
یو ایس ایڈ کا خاتمہ، ایلون مسک کا ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندوں سے ٹاکرا
ٹرمپ انتظامیہ اور ان کے ارب پتی اتحادی ایلون مسک کا یو ایس ایڈ کو ختم کرنے کا ...
بين الاقوامى