سعودی عرب اور چین کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

چین کی وزارت تجارت کے مطابق وزیر تجارت وانگ وینٹو نے کل جمعرات کے روز اپنے سعودی ہم منصب ماجد بن عبداللہ القصیبی سے بات چیت کی۔ وڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے رابطے میں امریکی ٹیرف کا معاملہ زیر بحث آیا۔
اس کے علاوہ دونوں وزراء نے چین اور سعودی عرب کے درمیان اور اسی طرح چین اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے طریقہ کار پر بات چیت۔

ادھر سعودی عرب میں چین کے سفیر چانگ ہوا نے زور دیا ہے کہ امریکا کی جانب سے یک طرفہ طور پر نافذ کیا جانے والا کسٹم ٹیرف عالمی اقتصادی نظام کے استحکام پر ایک "کاری ضرب" کے مترادف ہے۔ سفیر کے مطابق چین اس پالیسیوں کو مسترد کرتا ہے اور ان کی پر زور مذمت کرتا ہے۔

چینی سفیر نے "العربیہ" سے بات کرتے ہوئے باور کرایا کہ ان کا ملک بیرونی ماحول کے منفی اثرات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین کی اقتصادی بنیادیں ابھی تک مضبوط ہیں۔ سال 2024 میں مجموعی مقامی پیداوار (GDP) میں پانچ فی صد کی نمو ریکارڈ کی گئی۔
چین کے ایک ذمے دار نے کل جمعرات کے روز زور دیا کہ ان کے ملک کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا فروغ یہ بیجنگ کے لیے خارجہ پالیسی کی بنیادی ترجیح ہے۔

ریاض میں چینی سفارت خانے منسٹر کونسلر مئی جیان کا کہنا تھا کہ "دونوں ملکوں کی قیادت نے اپنے خصوصی تعلقات کے سلسلے میں فائدہ مند نتائج کو یقینی بنایا ہے۔ اس ضمن میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم مسلسل کئی برسوں سے 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر رہا ہے۔ دونوں ملکوں کی جانب سے ثقافت، فن اور موسیقی کے شعبوں میں سرگرمیوں کا پیکج متعارف کرایا جائے گا۔

انھوں نے واضح کیا کہ " چین اور سعودی عرب کثیر قطبی دنیا کے دو اہم ممالک اور مستقبل کی تعمیر کے لیے مخلص شراکت دار ہی ں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کل جمعرات کے روز یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ ختم کرنے کے لیے چین کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے خواہش مند ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بیان کابینہ کے ایک اجلاس کے دوران میں دیا، یہ اجلاس صحافیوں کے لیے کھلا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے چینی مصنوعات پر عائد کسٹم ٹریف کل جمعرات کے روز سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔ اس طرح واشنگٹن کی جانب سے بیجنگ پر عائد اضافی ٹیرف 145 فی صد تک پہنچ گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں