سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور مضافات کو جمعہ کے روز خوفناک طوفان نے بری طرح لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جمعہ کو ریاض اور اس کے مضافات میں انتہائی تیز ہواؤں نے دارالحکومت کے علاقے کو شدید گرد و غبار سے ڈھانپ لیا۔
ریت کے اس طوفان نے اسکائی لائن کو گرد و غبار کے بادلوں سے ڈھانپ دیا ہے جس کے نتیجے میں حد نگاہ انتہائی کم ہو گئی ہے۔ روڈ سیفٹی سے متعلق سعودی اتھارٹی اور سعودی ہائی وے سکیورٹی نے طوفانی صورت حال میں گاڑی چلانے والے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سڑکوں پر انتہائی احتیاط سے کام لیں۔
سعودی عرب شہری دفاع سے متعلق ادارے 'جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس' نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ طوفان کے ختم ہونے تک ریت والے علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔ نیز محکمہ موسمیات کی طرف سے ملنے والی اطلاعات اور رہنمائی کے مطابق باہر نکلیں۔
دارالحکومت میں ریاض کے ایک رہائشی محمد سراج الدین کا بتانا ہے 'ہفتہ بھر کی چھٹی ہونے کی وجہ سے شام کے وقت ہم نے فیملی کے ساتھ گھومنے کے لیے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن اب ریت کے اس طوفان کی وجہ سے ہم نے گھر میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یقیناً ایسے خراب موسم میں باہر نکلنا اچھا نہیں ہو سکتا '۔
بشیر صالح نامی ریاض کے شہری نے اس بات سے اتفاق کیا کہ مقامی حکام نے مختلف علاقوں میں خراب موسم سے پیشگی خبردار کیا ہے کہ اپنی حفاطت کے لیے اس ہفتے کے اواخر تک تفریحی ضرورتوں کے لیے گھروں سے باہر نکلنے سے احتیاط برتیں۔
سرکاری محکموں کی رپورٹس کے مطابق اس طوفان کی وجہ سے سمندری لہریں 1.5 میٹر سے 3 میٹر تک کی بلندی کو پہنچ سکتی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ خلیج عرب میں یہ تیز ہوائیں شمال مشرق سے شمال مغرب کی طرف چل رہی ہیں۔
علاوہ ازیں مملکت کے کئی حصوں میں گرد و غبار سے اٹے طوفان کی پیش گوئی سامنے آئی تھی۔ جبکہ قومی مرکز برائے موسمیات کی طرف سے جمعہ کے روز کی گئی پیش گوئی میں بتایا گیا ہے کہ مکہ مکرمہ، ریاض، قسیم میں اولے پڑنے اور مشرقی و شمالی سرحدی علاقوں کے کچھ حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ، اولوں اور گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔