رشوت ستانی کا الزام : روسی فوج کے سابق ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف کو سات سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روس میں ایک عدالت نے آج جمعرات کے روز روسی فوج کے سابق ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف کو لاکھوں ڈالر رشوت لینے کے الزام میں سات سال قید کی سزا سنا دی۔

لیفٹیننٹ جنرل وادیم شامارین اُن اعلیٰ روسی فوجی اہل کاروں میں سے ایک ہیں جن پر گذشتہ سال روسی عسکری ادارے کی اعلیٰ قیادت کو ہلا دینے والے کرپشن اسکینڈلوں کے سلسلے میں بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

عدالتی کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ولادی میر پوتین روس کے وسیع فوجی بجٹ میں بد عنوانی، نا اہلی اور وسائل کے ضیاع کے خاتمے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب روس نے یوکرین میں چوتھے سال بھی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔

روسی تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ شامارین (عمر 53 سال) نے 2019 سے 2023 کے درمیان یورال پہاڑیوں میں قائم ایک فیکٹری سے 3.6 کروڑ روبل (تقریباً 440,000 امریکی ڈالر) کی رشوت وصول کی۔ یہ فیکٹری فوجی مواصلاتی آلات تیار کرتی ہے۔ اس رقم کے عوض شامارین نے اس فیکٹری کو دیے جانے والے سرکاری ٹھیکوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔

روسی نیوز ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق، شامارین نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔

شامارین 2020 سے اس شعبے کے نگران تھے جو فوجی مواصلات، بشمول میدانِ جنگ میں کمانڈ سگنلز کی رازداری کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہے۔

عدالت نے نہ صرف شامارین کو ان کے منصب اور فوجی رتبے سے بر طرف کیا بلکہ آئندہ سات سال کے لیے انھیں کسی بھی سرکاری عہدے پر خدمات انجام دینے سے بھی روک دیا ہے۔

یہ اسکینڈلز کئی برسوں میں روسی فوج کے خلاف بد عنوانی کی سب سے بڑی لہر سمجھے جا رہے ہیں۔ ان میں سابق وزیر دفاع سرگئی شویگو کے کئی نائبین بھی شامل ہیں۔ شویگو کو گذشتہ سال ایک وزارتی رد و بدل کے بعد برطرف کر کے روسی قومی سلامتی کونسل کا سکریٹری جنرل بنا دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں