غزہ سے رہائی پانے والے روسی قیدیوں سے صدر پوتین کی ملاقات
روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے بدھ کے روز ان روسی شہریوں سے ملاقات کی ہے جو سات اکتوبر 2023 سے غزہ میں قید تھے لیکن اب انہیں رہائی مل گئی ہے۔
روسی صدر نے رہائی پانے والے ان قیدیوں سے ملاقات کے بعد کہا کہ یہ رہائی فلسطینیوں کے ساتھ گہرے اور طویل مدتی تعلقات کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ کیونکہ روس فلسطینیوں کی آزادی کی حمایت کرتا ہے۔
صدر نے اپنے ان شہریوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا 'آپ لوگوں کی رہائی روس اور فلسطینیوں کے درمیان پرانے تعلقات کی بنیاد پر ہو سکی ہے۔'
روسی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر پوتین نے سابق قیدی الیگزینڈر ترفانوف اور ان کے خاندان کے لوگوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا 'ہم اس موقع پر حماس کی قیادت کے ممنون ہیں۔ جن کے سیاسی شعبے نے ہمارے لیے بہت مثبت 'جیسچر' دیا اور انسانی نیادوں پر ہمارے لوگوں کو رہا کر دیا۔
رہائی پانے والے قیدیوں کے ساتھ ان کی یہ ملاقات بدھ کی رات دیر گئے ہوئی۔ رہائی پانےوالے قیدیوں کے ساتھ ملاقات میں روسی یہودیوں کے چیف ربی اور یہودیوں کی مختلف کمیونٹیز کی فیڈریشن کے سربراہ نے بھی شرکت کی۔
پوتین نے مزید کہا 'صدق دل کےساتھ ترفانوف کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ ترفانوف کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے جو بھی ممکن ہے وہ کیا جائے گا۔ نیز اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ قید میں موجود افراد کو رہا کیا جائے۔'
الیگزینڈر ترفانوف کو تقریباً 500 دن تک غزہ میں قید رہنے کے بعد فروری میں رہا کیے گئے تھے۔ انہوں نے اپنی رہائی ممکن بنانے میں مدد کرنے پر پوتین کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی ہے کہ باقی تمام قیدی بھی جلد رہا ہو جائیں گے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق پوتین نے ترفانوف کی والدہ ایلینا اور ان کی منگیتر سپیر کوہن کو بھی پھول پیش کیے، جو سات اکتوبر 2023 کو حماس کے ہاتھوں پکڑے گئے تقریباً 250 یرغمالیوں میں شامل تھے۔
تاہم انہیں نومبر 2023 میں ہی رہائی مل گئی تھی۔ البتہ ترفانوف کے والد سات اکتوبر کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔