واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری تجارتی جنگ کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے بڑے ٹیرف کے جواب میں چین نے جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان ٹیرف جنگ کا اثر سفارتی عملے تک بھی پہنچ گیا۔ انڈونیشیا کے شہر ڈینپاسار میں چین کے قونصل جنرل ژانگ کیچن نے چند روز قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ
لیو لائین کے سرخ لباس پہننے پر رد عمل پرمبنی پوسٹ کی جس سے تنازع پیدا ہوگیا۔
پھر ہفتہ کے روز بھی وہی کہانی دہرائی گئی۔ اس پوسٹ میں لباس میں موجود سیاہ فیتے کا حوالہ دیا گیا تھا۔ اپنے ’’ ایکس‘‘ اکاؤنٹ پر پوسٹ میں چینی قونصل جنرل نے کیرولین لیویٹ پر الزامات اور تنقید کی ایک ویڈیو دوبارہ پوسٹ کردی۔ اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بہت سے امریکی اہلکار چین میں بنے ہوئے کپڑے پہنتے ہیں لیکن پھر بھی اس کے خلاف جنگ کرتے ہیں۔
اس نے ویڈیو کے اوپر میپو سٹی کی تعریف کرتے ہوئے بھی لکھا کہ یہ اس طرح کے فیتے کی صنعت کا مشہور مرکز ہے۔ میپو سٹی ژی جیانگ صوبے کے علاقے پنگیانگ میں واقع ہے۔
انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اس چینی شہر کی آبادی صرف 48,000 ہے لیکن یہ سالانہ 200,000 ٹن فیتے پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میپو سٹی دنیا میں بنے ہوئے فیتے کا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے اور عالمی پیداوار کے 70 فیصد سے زیادہ کی نمائندگی کرتا ہے
سرخ لباس کا تنازع
27 سالہ لیویٹ نے چند روز قبل اپنے سرخ لباس سے چینی سفارتکار کی توجہ حاصل کی تھی۔ اس نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لباس کی ایک تصویر پوسٹ کی اور ساتھ ہی ویبو صارفین کے تبصروں کی بھرمار ہوگئی اور بتایا گیا کہ یہ لباس چین کے میپو سٹی میں بنایا گیا تھا۔
یہ پیش رفت چین کی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کی جانب سے ٹرمپ کی مشہور سرخ ٹوپی پر تنقید کے بعد ہوئی ہے۔ اس سرخ ٹوپی کے متعلق دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ چین میں بنائی گئی ہے۔ یہ چینی اکاؤنٹس کے ذریعہ شروع کردہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زبانی حملوں کی ایک لہر کے درمیان بھی آیا ہے۔ یاد رہے لاتعداد امریکی مصنوعات چین میں تیار ہوتی ہیں۔