یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی جماعت نے ممکنہ حملے کے پیش نظر، مغربی ساحلی صوبے الحدیدہ کے زیر قبضہ علاقوں میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
میدانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حوثی جماعت نے الحدیدہ شہر اور وہاں کی شہری آبادی کے درمیان بارودی سرنگیں بچھانے کی کارروائیاں بڑھا دی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ امریکا کی جانب سے ان کے ٹھکانوں اور دفاعی مورچوں پر شدید فضائی حملے جاری ہیں۔ حوثیوں کو اندیشہ ہے کہ امریکی حملوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومتی فورسز امریکی فوج کے ساتھ مل کر زمینی کارروائی کر کے شہر پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، حوثیوں نے بارودی سرنگیں بچھانے کا دائرہ ان اضلاع تک پھیلا دیا ہے جو محاذ جنگ کے قریب ہیں۔ ان میں الدریہمی کے مرکزی علاقے اور اس کے مشرقی حصے، حیس ضلع کا شمال مشرقی علاقہ، التحیتا ضلع کا مشرقی حصہ، بیت الفقیہ ضلع، اور الجراحی ضلع کے شمالی اور شمال مشرقی علاقے شامل ہیں۔
جہازرانی اور عام شہریوں کے لیے خطرہ
حوثی جماعت نے بحیرہ احمر پر واقع الحدیدہ کی تزویراتی بندرگاہ کے اطراف بھی بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں، جو جہازرانی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور شہریوں کے لیے خطرات میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔
ائع نے یہ بھی بتایا کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں بڑے پیمانے پر بحری بارودی سرنگیں بھی نصب کی ہیں، تاکہ بین الاقوامی پانیوں کو دھماکہ خیز مواد سے بھر کر جہازرانی کو نشانہ بنایا جا سکے۔
اسی سلسلے میں، گذشتہ دو ہفتوں کے دوران حوثیوں نے صوبے کے اضلاع اور الحدیدہ شہر کے جنوب مشرقی علاقوں میں بڑی تعداد میں جنگجو، گاڑیاں اور فوجی سازوسامان بھیج کر اپنی عسکری قوت میں اضافہ کیا ہے۔
یہ کارروائیاں اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہیں جو امریکی جریدے "وال اسٹریٹ جرنل" نے شائع کی، جس میں کہا گیا کہ "یمنی گروپ امریکی فضائی حملوں سے حوثیوں کی کمزور ہوئی جنگی صلاحیتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے خلاف زمینی حملے کی تیاری کر رہے ہیں"۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکی حکام نے مقامی یمنی فورسز کی قیادت میں حوثیوں کے خلاف زمینی کارروائی میں مدد دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس مدد کی نوعیت یا وقت کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔