کشمیر میں مہلک حملے کے بعد ’زیادہ سے زیادہ تحمل‘ کا مظاہرہ کریں: اقوامِ متحدہ

دونوں ممالک کی ایک دوسرے کے خلاف سفارتی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اقوامِ متحدہ نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ "زیادہ سے زیادہ تحمل" کا مظاہرہ کریں۔ جیسا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس حریفوں نے کشمیر میں ہلاکت خیز فائرنگ کے معاملے پر سفارتی اقدامات کی صورت میں ایک دوسرے پر دباؤ ڈالا ہے تو عالمی ادارے کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔

پہلگام میں بھارتی سیاحوں کی بس پر باغیوں کے حملے اور ہلاکتوں کے بعد بھارت نے پاکستان پر "سرحد پار دہشت گردی" کی حمایت کرنے کا الزام لگایا ہے جس کے باعث دوںوں ممالک کے تعلقات برسوں کی کم ترین سطح پر آگئے ہیں۔ یہ ایک چوتھائی صدی میں مسلم اکثریتی کشمیر میں شہریوں پر ہونے والا بدترین حملہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے جمعرات کو نیویارک میں نامہ نگاروں کو بتایا، "ہم دونوں حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ حالات اور جو پیش رفت ہم نے دیکھی ہے، وہ مزید خراب نہ ہوں۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی بھی مسئلہ بامعنی باہمی گفتگو کے ذریعے پرامن طریقے سے حل ہوسکتا ہے اور ہونا چاہیے"۔

بھارتی پولیس نے تین مفرور باغیوں میں سے دو کی شناخت پاکستانی کے طور پر کی جس کے بعد بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پہلگام کے مشہور سیاحتی مقام پر 26 شہریوں کی ہلاکت کے ذمہ داروں کو تلاش کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

انہوں نے ہمالیائی خطے میں منگل کے حملے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں کہا، "ہم کرۂ ارض کی آخری حد تک ان کا تعاقب کریں گے۔"

حملے میں کسی بھی طرح ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے اسلام آباد نے پہلگام حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوششوں کو "غیر سنجیدہ" قرار دیا اور کسی بھی بھارتی کارروائی کا جواب دینے کا عزم کیا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا ملک کے اعلیٰ فوجی سربراہوں کے ساتھ قومی سلامتی کمیٹی کا ایک غیر معمولی اجلاس ہوا جس کے بعد ایک پاکستانی بیان میں کہا گیا، "پاکستان کی خودمختاری اور اس کے عوام کی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کا مقابلہ تمام شعبوں میں مضبوط باہمی اقدامات کے ساتھ کیا جائے گا۔"

باغی گروپوں نے 1989 سے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں شورش برپا کر رکھی ہے جو آزادی یا پاکستان سے الحاق کا مطالبہ کرتے ہیں۔

بھارتی فضائیہ اور بحریہ دونوں نے جمعرات کو فوجی مشقیں کیں۔

بھارتی پولیس نے کہا ہے کہ تینوں مسلح افراد پاکستان میں قائم لشکرِ طیبہ گروپ کے ارکان ہیں جو اقوامِ متحدہ کی نامزد دہشت گرد تنظیم ہے۔

انہوں نے ہر ایک شخص کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے پر 20 لاکھ روپے (23,500 ڈالر) انعام کی پیشکش کی۔

حملے کے ایک دن بعد نئی دہلی نے آبی تقسیم کا سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا، پاکستان کے ساتھ اہم زمینی سرحدی گذرگاہ بند کرنے کا اعلان کیا، سفارتی تعلقات میں کمی کر دی اور پاکستانیوں کے ویزے منسوخ کر دیئے۔

اس کے جواب میں اسلام آباد نے جمعرات کو ہندوستانی سفارت کاروں اور فوجی مشیروں کو بے دخل کرنے اور سکھ یاتریوں کے علاوہ بھارتی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے کا حکم دیا۔ اور اپنی طرف کی مرکزی سرحدی گذرگاہ بند کر دی۔

پاکستان نے یہ بھی خبردار کیا کہ بھارت کی طرف سے دریائے سندھ کے پانی کی فراہمی روکنے کی کوئی بھی کوشش ’جنگ کا عمل‘ ہو گی۔

'اسے خاک میں ملا دیا جائے'

پہلگام واقعہ حالیہ کشمیری باغیوں کے حملوں میں ایک ڈرامائی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جو عموماً بھارتی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ فوجی ردِ عمل بدستور زیرِ عمل ہو سکتا ہے جن میں سے بعض لوگ کا قیاس ہے کہ یہ چن دنوں میں سامنے آ سکتا ہے جبکہ دوسروں کا خیال ہے کہ ہفتوں میں۔

کشمیر میں 2019 میں ایک خودکش حملے میں 41 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے جو پاکستان کے اندر بھارتی فضائی حملے کی وجہ بن گئے۔ اس واقعے سے دونوں ممالک مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔

مودی نے جمعرات کو ہلاک شدگان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کے بعد کہا، "ان دہشت گردوں کے پاس جو تھوڑی بہت زمین ہے، یہی وقت ہے کہ اسے خاک میں ملا دیا جائے۔"

بھارت نے ماضی کے حملوں کا جواب دینے کے لیے اپنا وقت لیا ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ برسوں میں بدترین حملہ 2019 میں پلوامہ میں ہوا تھا جب باغیوں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی پولیس کے قافلے سے ٹکرا دی جس میں 40 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے۔

بھارتی لڑاکا طیاروں نے 12 دن بعد پاکستانی علاقے پر فضائی حملہ کیا۔

منگل کا حملہ اس وقت ہوا جب سیاح پہلگام کے مشہور مقام پر پہاڑوں کے پرسکون نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اسی وقت مسلح باغی جنگلات سے باہر نکل آئے اور خودکار ہتھیاروں سے ہجوم پر گولیاں چلا دیں۔

زندہ بچ جانے والوں نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ باغیوں نے آدمیوں کو نشانہ بنایا اور ان لوگوں کو چھوڑ دیا جنہوں نے اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔

اس حملے نے ہندو قوم پرست گروہوں کو مشتعل کر دیا ہے اور ہندوستان کے طول و عرض میں تعلیمی اداروں میں کشمیری طلباء نے ہراسگی اور دھمکیوں کا سامنا کرنے کی اطلاع دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں