فراخدلانہ انعام کے ساتھ امریکہ نے روس کے بہترین طیارے حاصل کرنے کی کیسے کوشش کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے اور اتحادیوں کی فتح کے ساتھ ہی دنیا نے سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کے آغاز کا مشاہدہ کیا۔ یورپ کو ایک مشرقی کیمپ میں تقسیم کیا گیا تھا جسے سوویت یونین کی حمایت حاصل تھی۔ ایک مغربی کیمپ تھا جو امریکہ کے پیچھے کھڑا تھا۔

پراکسی جنگوں کے علاوہ سرد جنگ میں امریکیوں اور سوویت یونین کے درمیان فوجی اور تکنیکی دوڑ دیکھنے میں آئی۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے میں خوف اور اضطراب پیدا کرنے کے لیے جدید ترین ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس وجہ سے امریکی اور سوویت یونین ایک دوسرے کے منصوبوں، رازوں اور فوجی ٹیکنالوجی سے پردہ اٹھانے کی امید میں ایک دوسرے کی جاسوسی کرنے لگے۔

1953 میں امریکیوں کے ذریعے حاصل کیے گئے مگ 15 طیارے کی تصویر۔
1953 میں امریکیوں کے ذریعے حاصل کیے گئے مگ 15 طیارے کی تصویر۔

طیارہ MiG-15 کوریا میں

جس وقت ’’ مگ 15 ‘‘ کی پیداوار اور سروس میں داخلے کی اطلاعات سامنے آئیں سوویت MiG-15 نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں تشویش پیدا کردی۔ کوریائی جنگ کے دوران نومبر 1950 میں جزیرہ نما کوریا کے آسمانوں پر اس سوویت لڑاکا طیارے کے نمودار ہونے کے ساتھ ہی بہت سے لوگوں نے شمالی کوریا کے فائدے کی بات کی۔ شمالی کوریا کو ماسکو کی حمایت حاصل تھی۔ جنگی کارروائیوں میں MiG-15 نے اپنے امریکی ہم منصب ’’ ایف 86 سابرے‘‘ کو کئی پہلوؤں سے پیچھے چھوڑ دیا۔ سوویت لڑاکا طیارے کو اس کی اعلیٰ رفتار، چالبازی اور امریکی بمبار طیاروں کو مار گرانے کی صلاحیت رکھنے والی 37 ملی میٹر توپ کی وجہ سے ممتاز مقام حاصل تھا۔

37 ملی میٹر توپ کے بارے میں ان کی پیشگی معلومات کے باوجود امریکی MiG-15 فائٹر کے تکنیکی پہلوؤں سے کافی حد تک واقف نہیں تھے۔ مزید برآں کوریائی فضائی حدود میں MiG-15s کی ظاہری شکل نے تنازع میں براہ راست سوویت مداخلت کے امکان کے بارے میں خدشات پیدا کردیے تھے۔

1950 میں کوریائی فضائی حدود میں اس کے نمودار ہونے سے پہلے MiG-15s کے متعدد دستے ماسکو کے قریب سوویت فضائی دفاعی علاقوں میں تعینات تھے تاکہ نیٹو طیاروں کے کسی بھی ممکنہ فضائی حملے کو پسپا کر سکیں۔

مگ 15 لڑاکا طیاروں کی ایک تصویر
مگ 15 لڑاکا طیاروں کی ایک تصویر

آپریشن، ایک لاکھ ڈالر اور سیاسی پناہ

متعدد ذرائع کے مطابق امریکی فوج کے نفسیاتی وارفیئر آفس نے ایک MiG-15 کو لوٹنے کا آئیڈیا تیار کیا تھا۔ امریکیوں کے ذریعہ حاصل کردہ انٹیلی جنس نے بتایا تھا کہ سٹالنسٹ پالیسیوں پر سوویت فضائیہ کے اندر غصہ اور ناراضگی کی کیفیت تھی۔ مستقبل میں سوویت فضائیہ سے انحراف کی حوصلہ افزائی کی امید میں امریکی فوج کے نفسیاتی جنگ کے دفتر کے متعدد اہلکاروں نے ایک منصوبہ تجویز کیا جس میں کسی بھی ایسے سوویٹ پائلٹ کو ایک لاکھ ڈالر دینے اور سیاسی پناہ دینے کی پیش کی گئی جو منحرف ہوکر ’’ مِگ 15 ‘‘ کو امریکیوں اور اس کے نیٹو ا تحادیوں کو حوالے کردے۔

20 مارچ 1953 تک منصوبے کی فائل امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے حوالے کر دی گئی جس نے اسے کوریا منتقل کرنے اور جاپانی حکام کے ساتھ اشتراک کرنے پر اتفاق کیا۔ جزیرہ نما کوریا پر تجویز کردہ اس منصوبے، جسے آپریشن مولہ کہا جاتا ہے، کے تحت امریکیوں نے شمالی کوریا کے کسی بھی پائلٹ کو 50 ہزار ڈالر اور سیاسی پناہ دینے کا وعدہ کیا تھا جو منحرف ہو کر مگ 15 ان کے حوالے کرے گا۔

ایک پروپیگنڈہ دستاویز جو امریکیوں نے جزیرہ نما کوریا پر تقسیم کی ہے جس میں شمالی کوریا کے پائلٹوں کو مگ 15 لڑاکا طیاروں کو خراب کرنے اور حوالے کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
ایک پروپیگنڈہ دستاویز جو امریکیوں نے جزیرہ نما کوریا پر تقسیم کی ہے جس میں شمالی کوریا کے پائلٹوں کو مگ 15 لڑاکا طیاروں کو خراب کرنے اور حوالے کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

اپنی فوج سے انحراف کی ترغیت دینے کے لیے امریکیوں نے شمالی کوریا کے اس پہلے پائلٹ جو MiG-15 لے آئے کو اضافی 50 ہزار ڈالر دینے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ اس پیشکش کے باوجود کوریائی جنگ کے دوران شمالی کوریا کا کوئی پائلٹ منحرف نہیں ہوا۔ جزیرہ نما کوریا پر تنازع کے خاتمے کے بعد شمالی کوریا کے پائلٹ نو کم سوک 21 ستمبر 1953 کو منحرف ہوگیا اور اپنے پیسے اور مالی انعام کے بارے میں جانے بغیر اپنا طیارہ امریکیوں کے حوالے کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں