ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں سالانہ ہزاروں اموات الٹرا پروسیسڈ فوڈز کے استعمال سے ہو رہی ہوسکتی ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے (اے بی میڈیا) کی رپورٹ کے مطابق تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ الٹرا پروسیسڈ فوڈز کھانے سے جلد موت کے خطرے میں اضافہ ہوتا ہے۔
واضح رہے اس سے قبل الٹرا پروسیسڈ فوڈز اورخراب صحت کے درمیان ایک ربط پایا جا چکا ہے۔ الٹرا پروسیسڈ فوڈز میں آئس کریم، پراسیس شدہ گوشت اور سافٹ ڈرنکس شامل ہیں۔ اس کھانے سے موٹاپا، دل کی بیماری، کینسر اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس قسم کے کھانوں میں اکثر سیچوریٹڈ فیٹ ، نمک، چینی اور اضافی اشیاء کی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔ ان چیزوں کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی وجہ سے لوگوں کی خوراک میں زیادہ غذائیت کے لحاظ سے فائدہ مند کھانے کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔ امریکن جرنل آف پریوینٹیو میڈیسن میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں ماہرین نے سفارش کی ہے کہ حکومتیں غذائی سفارشات جاری کریں جس کا مقصد الٹرا پروسیسڈ فوڈز کے استعمال کو کم کرنا ہو۔
ماہرین نے دنیا بھر کے آٹھ ممالک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ الٹرا پروسیسڈ فوڈز برطانیہ میں کیلوری کی کھپت کا 53 فیصد حصہ ہے۔ یہ امریکہ کے بعد دوسرا سب سے زیادہ تناسب ہے۔ امریکہ میں یہ 55 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔