مصر میں گذشتہ شب "اسوان انٹرنیشنل ویمن فلم فیسٹول" کے نویں ایڈیشن کا آغاز ہوا، جس میں عرب ممالک کی 34 اور غیر عرب ممالک کی 72 فلمیں پیش کی جا رہی ہیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میلے کی بورڈ آف ٹرسٹیز کی صدر سفیرہ میرفت التلاوی نے کہا کہ "سینیما شعور کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن ایک ایسی فلم ہے جسے ہمیں ضرور یاد رکھنا چاہیے، وہ ہے 'غزہ کے بچوں اور خواتین کی فلم' ... اسی لیے ہم غزہ کے عوام اور خواتین کو سلام پیش کرتے ہیں"۔
میلے کے افتتاحی پروگرام میں شامی اداکارہ کِندہ علوش کو اُن کے خواتین کے مسائل پر مبنی کرداروں کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر کِندہ علوش نے کہا کہ وہ پچھلے 15 سال سے مصر میں مقیم ہیں اور مصر کو اپنا دوسرا وطن سمجھتی ہیں۔ انھوں نے اسوان کو ایک جادوئی جگہ قرار دیا جہاں ہر بار آ کر نیا احساس ہوتا ہے۔
ہالینڈ کی فلم ساز الیزبیتھ فرانیہ کو بھی اُن کی خواتین پر مبنی دستاویزی فلموں کے لیے اعزاز دیا گیا۔ انھوں نے اسوان میں موجودگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلم کی زبان عالمی ہے جو دلوں تک رسائی رکھتی ہے۔ انہوں نے فلسطینی شال اٹھا کر فلسطینی کاز کی حمایت کا اظہار بھی کیا۔
مصری اداکارہ لُبلُبہ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ام کلثوم کے نام سے منسوب اس ایڈیشن میں اعزاز پا کر فخر محسوس کرتی ہیں۔ لبلبہ کے مطابق انھوں نے 97 فلموں میں ناظرین تک کوئی نہ کوئی پیغام پہنچانے کی کوشش کی۔ شامی اداکارہ نے اسوان کے لوگوں کی جانب سے پُر تپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا۔
یاد رہے کہ اسوان انٹرنیشنل ویمن فلم فیسٹیول کا یہ نواں ایڈیشن 2 سے 7 مئی کے دوران جاری رہے گا۔ یہ ایڈیشن "کوكب الشرق" ام کلثوم کے نام سے منسوب ہے، جن کی وفات کو 50 سال مکمل ہو رہے ہیں۔
فیسٹول کی انتظامیہ نے اس سال کئی نئی سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے، جن میں جنوبی فلموں کا نیا مقابلہ، کھلی جگہوں پر شو، پبلک گارڈن اور مصر کی عوامی لائبریری میں فلمی سرگرمیاں ... ان کے علاوہ موسیقی اور گانے کے شو شامل ہیں۔