کولمبیا یونیورسٹی کی لائبریری پر دھاوا بولنے والوں کے ویزا پر نظر ثانی کر رہے ہیں : روبیو
نیو یارک کے علاقے مین ہیٹن میں واقع کولمبیا یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرنے والے نقاب پوش طلبہ کے خلاف امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "غنڈہ گرد عناصر" کے لیے امریکا میں کوئی جگہ نہیں، اور حکومت ان مظاہرین کی ویزا حیثیت کا جائزہ لے رہی ہے۔ روبیو کے مطابق "حماس کے حامیوں کا اب ہمارے عظیم وطن میں خیر مقدم نہیں کیا جائے گا"۔
روبیو کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بدھ کی شب امریکی پولیس اہل کاروں نے مظاہرین کو لائبریری سے نکالنے کے لیے یونیورسٹی میں مداخلت کی۔ وڈیوز میں دیکھا گیا کہ مظاہرین فلسطینی پرچموں اور دیگر بینروں کو لائبریری کی کتابوں کی الماریوں پر لگا رہے تھے اور بعض تصاویر پر "کولمبیا جل کر راکھ ہو جائے گا" جیسے نعرے لکھ رہے تھے۔
MORE CHAOS FIGHTS ERUPT outside Columbia University as police clash with violent protesters attempting to stop the removal of those who took over and vandalized the campus library. A large, hostile mob turned on law enforcement, forcing a physical response and leading to multiple… pic.twitter.com/glo7GufsJr
— The Urban Warrior (@18urbanwarrior) May 8, 2025
یونیورسٹی کی عبوری سربراہ کلیر شِپ مین کے مطابق، مظاہرین کو بار بار شناخت ظاہر کرنے اور لائبریری خالی کرنے کا کہا گیا، لیکن انکار پر پولیس کو طلب کیا گیا تا کہ عمارت کی سیکیورٹی اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔ نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز نے بھی پولیس کارروائی کی تصدیق کی۔
دوسری طرف، ایک طلبہ تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ یونیورسٹی سیکیورٹی نے مظاہرین پر تشدد کیا اور "فوجی طرز کے گرفتاری کے احکامات" جاری کیے، جس کے خلاف طلبہ نے شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا۔
یاد رہے کہ کولمبیا یونیورسٹی میں گذشتہ سال بھی غزہ کے ساتھ یک جہتی میں بڑے مظاہرے ہوئے تھے جن میں اسرائیل کی جنگ روکنے اور امریکی حمایت بند کرنے کے مطالبات کیے گئے تھے۔ ان مظاہروں میں کئی طلبہ گرفتار ہوئے تھے۔