کولمبیا یونیورسٹی کی لائبریری پر دھاوا بولنے والوں کے ویزا پر نظر ثانی کر رہے ہیں : روبیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نیو یارک کے علاقے مین ہیٹن میں واقع کولمبیا یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرنے والے نقاب پوش طلبہ کے خلاف امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "غنڈہ گرد عناصر" کے لیے امریکا میں کوئی جگہ نہیں، اور حکومت ان مظاہرین کی ویزا حیثیت کا جائزہ لے رہی ہے۔ روبیو کے مطابق "حماس کے حامیوں کا اب ہمارے عظیم وطن میں خیر مقدم نہیں کیا جائے گا"۔

روبیو کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بدھ کی شب امریکی پولیس اہل کاروں نے مظاہرین کو لائبریری سے نکالنے کے لیے یونیورسٹی میں مداخلت کی۔ وڈیوز میں دیکھا گیا کہ مظاہرین فلسطینی پرچموں اور دیگر بینروں کو لائبریری کی کتابوں کی الماریوں پر لگا رہے تھے اور بعض تصاویر پر "کولمبیا جل کر راکھ ہو جائے گا" جیسے نعرے لکھ رہے تھے۔

یونیورسٹی کی عبوری سربراہ کلیر شِپ مین کے مطابق، مظاہرین کو بار بار شناخت ظاہر کرنے اور لائبریری خالی کرنے کا کہا گیا، لیکن انکار پر پولیس کو طلب کیا گیا تا کہ عمارت کی سیکیورٹی اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔ نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز نے بھی پولیس کارروائی کی تصدیق کی۔

دوسری طرف، ایک طلبہ تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ یونیورسٹی سیکیورٹی نے مظاہرین پر تشدد کیا اور "فوجی طرز کے گرفتاری کے احکامات" جاری کیے، جس کے خلاف طلبہ نے شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا۔

یاد رہے کہ کولمبیا یونیورسٹی میں گذشتہ سال بھی غزہ کے ساتھ یک جہتی میں بڑے مظاہرے ہوئے تھے جن میں اسرائیل کی جنگ روکنے اور امریکی حمایت بند کرنے کے مطالبات کیے گئے تھے۔ ان مظاہروں میں کئی طلبہ گرفتار ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں