رہا کردہ فلسطینی طالبِ علم کا کولمبیا یونیورسٹی پر تشدد کو ہوا دینے کا الزام

یونیورسٹی کے اقدامات پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایک فلسطینی طالبِ علم نے جمعرات کو کولمبیا یونیورسٹی پر الزام لگایا کہ اس نے غزہ جنگ کے خلاف کیمپس میں ہونے والے احتجاج کو جس طریقے سے سنبھالا، اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچا۔ یہ محسن مہدوی ہیں جنہیں گرفتار کر لیا گیا تھا جب وہ اپنی امریکی شہریت کو حتمی شکل دینے والے تھے۔

نیو یارک کے آئیوی لیگ سکول میں 2023 اور 2024 میں جنگ مخالف مظاہروں کی قیادت کرنے والے 34 سالہ محسن مہدوی نے 16 دن ورمونٹ کی جیل میں گذارے۔ پھر 30 اپریل کو ایک جج نے ان کی رہائی کا حکم دیا۔ انہوں نے جمعرات کو ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کی جس سے ایک دن قبل فلسطینی حامی مظاہرین کی یونیورسٹی کیمپس کے اندر سکیورٹی گارڈز سے جھڑپ ہوئی۔ پولیس نے بتایا کہ کم از کم 80 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

مہدوی نے کہا، یونیورسٹی "امید کی کرن" بننے کے بجائے طلباء کے خلاف تشدد کو ہوا دے رہی ہے۔

انہوں نے انٹرویو میں کہا، "کولمبیا یونیورسٹی جمہوری نظام کی تباہی میں حصہ لے رہی ہے۔ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات اور ایجنڈے کی حمایت کر رہے ہیں اور اپنے طلباء کو سزا اور تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔"

بدھ کے مظاہروں پر سکول کی قائم مقام صدر کے ردِعمل کے بعد کولمبیا یونیورسٹی کے ترجمان نے جمعرات کو مزید تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

قائم مقام صدر کلیئر شپ مین نے کہا کہ مظاہرین جو کارروائی سے بچنے کے لیے لائبریری کے ریڈنگ روم کے اندر چھپے ہوئے تھے، ان سے بار بار شناخت ظاہر کرنے اور وہاں سے نکل جانے کو کہا گیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد سکول نے پولیس سے کہا کہ وہ "عمارت کو گھیرے میں لینے اور ہماری کمیونٹی کی حفاظت میں مدد کرے،" انہوں نے یہ بات بدھ کی شام ایک بیان میں کہی اور احتجاجی اقدامات کو "اشتعال انگیز" اور آخری امتحانات میں طلباء کے لیے رکاوٹ قرار دیا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ مہدوی کو ملک بدر کر دیا جائے کیونکہ ان کے فعال ہونے سے ملک کی خارجہ پالیسی کے مقاصد کو خطرہ ہے لیکن انہیں رہا کرنے والے جج نے فیصلہ دیا کہ انہوں نے ایک "اہمیت کا حامل دعویٰ" کیا کہ حکومت نے انھیں اس تقریر سے روکنے کے لیے گرفتار کیا جس سے وہ متفق نہیں ہے۔

مہدوی نے 14 اپریل کو شہریت کا تحریری امتحان دیا، زبانی سوالات کے جوابات دیئے اور جب انٹرویو لینے والا کمرے سے نکل گیا تو کولچسٹر کے ایک امیگریشن دفتر میں وفاداری کے عہد کے بارے میں ایک دستاویز پر دستخط کیے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد نقاب پوش اور مسلح ایجنٹ کمرے میں داخل ہوئے اور انہیں گرفتار کر لیا۔ اگرچہ انہیں پھانسے جانے کا شبہ تھا لیکن پھر بھی وہ لمحہ ان کے لیے پریشان کن تھا جو متضاد جذبات کی تیز رفتار روانی کا باعث بنا۔ روشنی اور تاریکی، سردی اور گرمی۔ حقوق ہوں یا بالکل نہ ہوں۔"

امیگریشن حکام نے ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی دنوں سے پورے ملک سے کالج کے طلباء کو حراست میں لے رکھا ہے جن میں سے اکثر نے اسرائیل کی جنگ کے خلاف کیمپس میں ہونے والے احتجاج میں حصہ لیا۔ مہدوی اپنی گرفتاری کو چیلنج کرنے کے بعد حراست سے رہائی حاصل کرنے والے ابتدائی لوگوں میں شامل تھے۔

ایک اور مقدمے میں اپیل کی ایک وفاقی عدالت نے بدھ کو ٹفٹس یونیورسٹی کی ترک طالبہ رومیسہ اوزترک کے حق میں فیصلہ سنایا اور انہیں لوزیانا کے حراستی مرکز سے واپس نیو انگلینڈ منتقل کرنے کا حکم برقرار رکھا تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور کیا انہیں رہا کر دینا چاہیے۔

مہدوی نے کہا کہ ان کا ترک طالبہ اور دوسروں کے لیے پیغام تھا کہ "اپنی سوچ کو مثبت رکھیں اور اس ناانصافی کے باعث اپنے یقین کو متزلزل نہ ہونے دیں کہ انصاف ہو کر رہے گا۔"

انہوں نے کہا، "لوگ سخت محنت کر رہے ہیں۔ کمیونٹیز متحرک ہو رہی ہیں۔ نظامِ انصاف نے میرے اور رومیسا کے مقدمے کے ساتھ امریکہ کو اشارہ دیا ہے کہ انصاف کا عمل کام کر رہا ہے اور قاعدہ قانون بدستور رو بہ عمل ہے۔"

مہدوی اس ماہ کے آخر میں نیویارک میں کولمبیا کی گریجویشن تقریب میں شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں حالانکہ ان کا خیال ہے کہ انتظامیہ نے ان کی مدد کرنے سے انکار اور طلباء کی سفارت کاری کونسل کا کام مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے یہودی، اسرائیلی اور لبنانی طلباء کے ساتھ کام کیا تھا۔

انہوں نے کہا، "میں گریجویشن میں شرکت کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں کیونکہ یہ ایک پیغام ہے۔ یہ ایک پیغام ہے کہ تعلیم امید ہے، تعلیم روشنی ہے اور دنیا میں ایسی کوئی طاقت نہیں ہے جو اسے ہم سے چھین لے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں