سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ریاض میں تاریخی ملاقات کے دوران اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، جن میں سب سے نمایاں "اسٹریٹجک اقتصادی شراکت" کی دستاویز شامل ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اس ملاقات کے دوران سعودی عرب اور امریکہ نے سعودی مسلح افواج کی جدید کاری کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جب کہ دونوں ملکوں کی وزارتِ توانائی کے درمیان ایک الگ معاہدہ بھی طے پایا۔
سعودی–امریکی سربراہ اجلاس میں مزید کئی اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں اسلحہ، عسکری تربیت، فنی معاونت، پرزہ جات اور بری و فضائی نظاموں کی اپ گریڈیشن جیسے شعبے شامل ہیں۔ سعودی وزارتِ نیشنل گارڈ اور امریکی وزارتِ دفاع کے مابین مفاہمتی یادداشتوں کے ذریعے ان سروسز کو مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک کی وزارتِ انصاف کے درمیان عدالتی تعاون کے لیے بھی یادداشت طے پائی، جبکہ وزارتِ داخلہ کے انٹرنیشنل پارٹنرشپ پروگرام اور امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (FBI) کے مابین بھی باہمی تعاون کی بنیاد رکھی گئی۔
ایک اور اہم پیش رفت سعودی عرب اور امریکہ کی وزاراتِ دفاع نے مسلح افواج کے لیے طبی سہولیات کی بہتری کے حوالے سے کی جس میں مشترکہ کاوشوں کی یاداشت پر دستخط کیے۔ خلائی شعبے، ہوائی نقل و حمل، معدنیات، تحقیق، صحت اور میڈیکل سائنس میں بھی تعاون پر معاہدے کیے گئے۔
اس موقع پر سعودی–امریکی انویسٹمنٹ فورم کا بھی انعقاد ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے شرکت کی۔ امریکی وفد میں شامل معروف کاروباری شخصیات کی بڑی تعداد نے سعودی مارکیٹ میں طویل المدتی سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
العربیہ کی نامہ نگار نادیہ البلبيسی کے مطابق، “کوئی ایسا شعبہ باقی نہیں بچا جس میں مفاہمتی یادداشت یا معاہدہ نہ ہوا ہو”۔
امریکی محکمہ خارجہ کے علاقائی ترجمان سامویل وربرگ نے اس دن کو "تاریخی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کو دفاع، سکیورٹی، سیاست، معیشت اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں ایک اہم شراکت دار سمجھتے ہیں۔