امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کی شب سعودی عرب روانہ ہوئے، جہاں وہ ایک تاریخی دورے کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس دورے میں وہ قطر اور متحدہ عرب امارات بھی جائیں گے۔ اس دورے کا مقصد خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا اور تجارتی معاہدے کرنا ہے۔
ٹرمپ کے ہمراہ ایک بڑا وفد بھی گیا ہے، جس میں کئی وزراء اور اعلیٰ حکومتی عہدے داران شامل ہیں۔ ان میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ شامل ہیں، جو مجوزہ اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔ امکان ہے کہ وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنیِک بھی وفد میں شامل ہو جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے بیشتر سینئر اہ لکار، جن میں چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور نائب صدور کا عملہ بھی شامل ہے، صدر کے ہمراہ ہوں گے۔ یہ تفصیلات امریکی نشریاتی ادارے "سی این این" بتائیں۔
سعودی-امریکی کاروباری فورم
منگل کے روز منعقد ہونے والے سعودی-امریکی کاروباری فورم میں شرکت کے لیے کئی بڑی کاروباری شخصیات کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ ان میں ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک، ایمیزون کے سی ای او اینڈی جَیسی، اور دیگر معروف اداروں جیسے بلیک راک، سٹی گروپ، آئی بی ایم، بوئنگ، ڈیلٹا ایئر لائنز، امریکن ایئر لائنز، اور یونائیٹڈ ایئر لائنز کے سربراہان شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ "صدر مشرقِ وسطیٰ کے اس تاریخی دورے کے آغاز کے منتظر ہیں۔"
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ ٹرمپ کی دوسری صدارت میں ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ آٹھ سال قبل، اپنی پہلی صدارتی مدت کے آغاز میں بھی انھوں نے سعودی عرب کو اپنی پہلی بیرونی منزل منتخب کیا تھا۔ یہ امر اس بات کا اعادہ ہے کہ سعودی عرب، قطر اور امارات کا علاقائی سیاسی اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے، اور امریکہ کے ساتھ ان کے تاریخی و تجارتی تعلقات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔