ایران اور آذربائیجان کی مشترکہ فوجی مشقیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران اور آذر بائیجان کی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس بات کا اعلان اتوار کے روز ایرانی سرکاری میڈیا کی طرف سے کیا گیا۔ دونوں ملکوں کی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز ایرانی صدر کے پڑسی ملک آذربائیجان کے دورے کے بعد ہوا ہے۔

ان مشترکہ فوجی مشقوں میں ایران کی پاسداران انقلاب اور آذربائیجان کے دستے شامل ہیں۔ نیز ان فوجی مشقوں کو 'آراز 2025' کا نام دیا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے 'ارنا' کے مطابق یہ آذر بائیجان و ایران کی یہ فوجی مشقیں 21 مئی تک جاری رہیں گی۔

اس سے قبل یہ مشقیں ستمبر 2023 میں کاراباخ کے علاقوں میں کی جارہی تھی جو آرمانییا کے ساتھ متنازع تھے ۔تاہم اب آذربائیجان نے ان علاقوں کو واپس اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔

پاسداران انقلاب کی زمینی افواج کے بریگیڈیئر جنرل ولی مدنی نے کہا، 'یہ مشقیں سرحدی علاقوں کی سیکورٹی کو بڑھانے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔'

خیال رہے ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نےگزشتہ ماہ باکو کا دورہ کیا تھا اور اپنے آذربائیجانی ہم منصب الہام علییف سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ 'ایران اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا کہ آذربائیجان کے ساتھ اس کے تعلقات تمام شعبوں میں اسٹریٹجک ہوں۔'

واضح رہے آذربائیجان کے اسرائیل کے ساتھ قریبی سیکورٹی تعاون اور تہران میں اس کے سفارت خانے پر 2023 میں ہونے والے حملے کی وجہ سے دونوں پڑوسیوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔ جس کے بعد باکو میں 2024 کے وسط میں ایرانی سفارت خانہ دوبارہ کھولا گیا اورسفارت خانے پر حملہ کرنے والے کو سزائے موت سنائی گئی۔

تہران آذربائیجان کو ترکیہ سے ملانے والی نام نہاد 'زنگیزور راہداری' کا سخت مخالف رہا ہے جو ایران کی آرمینیا کی سرحد کے ساتھ ہوگی۔ نومبر میں دونوں ممالک نے بحیرہ کیسپین میں مشترکہ بحری مشقیں کی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں