برطانیہ کی ایک عدالت نے ایک عرب نژاد شخص کو یورپ کی تاریخ کی سب سے بڑی انسانی اسمگلنگ کا مجرم ثابت ہونے پر 25 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ 42 سالہ احمد رمضان عبید نے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے 3800 سے زائد افراد کو غیر قانونی طور پر یورپی ممالک میں داخل کروایا۔
لندن کی ساوتھورک کراؤن کورٹ میں سماعت کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ عبید نے انسانی اسمگلنگ کا منظم نیٹ ورک چلایا جو لیبیا سے اٹلی اور دیگر یورپی ممالک تک پھیلا ہوا تھا۔ اس غیر قانونی نیٹ ورک کے ذریعے صرف آٹھ ماہ میں 12 ملین پاؤنڈ (تقریباً 16.1 ملین امریکی ڈالر) کمائے گئے۔
برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے مطابق عبید نے اکتوبر 2022ء سے جون 2023ء کے درمیان لیبیا سے اٹلی تک بھری ہوئی اور غیر محفوظ ماہی گیری کی کشتیوں کے ذریعے ہزاروں تارکینِ وطن کو یورپ منتقل کیا۔ ان میں سے کچھ برطانیہ بھی پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
عبید نہ صرف اسمگلنگ کی منصوبہ بندی اور مالی معاملات کا مرکزی کردار رہا، بلکہ وہ دھمکیوں، تشدد اور رشوت جیسے حربے بھی استعمال کرتا رہا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ وہ اپنے معاونین کو حکم دیتا تھا کہ اگر کسی مہاجر کے پاس موبائل فون پایا جائے تو اُسے قتل کر کے سمندر میں پھینک دیا جائے تاکہ سکیورٹی ادارے ان کا سراغ نہ لگا سکیں۔
عبید خود 2022ء میں ایک چھوٹی کشتی کے ذریعے برطانیہ آیا تھا، جبکہ اس سے قبل وہ اٹلی میں منشیات اسمگلنگ کے جرم میں پانچ سال قید کاٹ چکا تھا۔
جج جسٹس ایڈم ہیڈل اسٹون نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ عبید نے "مہاجرین کی تکالیف کو ذاتی مالی مفاد کے لیے استعمال کیا" اور اس کی کارروائیاں "انتہائی خوفناک" تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مکمل طور پر کمرشل نوعیت کا نیٹ ورک تھا، جس میں انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق تھے۔
تفتیش کے دوران عبید کے گھر سے سمندری راستوں کے نقشے، مالی ادائیگیوں کی تفصیلات والے رجسٹرز اور انسانی نقل و حرکت کے منظم منصوبے برآمد کیے گئے۔ وہ سوشل میڈیا پر خود کو "کپتان احمد" کے نام سے متعارف کرواتا تھا۔
عبید جو اب برطانیہ میں سزا کاٹ رہا ہے انسانی اسمگلنگ کے اس نوعیت کے مقدمے میں پہلی بار کسی شخص کو بحیرہ روم کے راستے یورپ لانے کے الزام میں برطانیہ میں سزا سنائی گئی ہے۔