’’ ایک اور زیلنسکی؟ ‘‘ ٹرمپ کی راما فوسا سے ملاقات کے بعد جنوبی افریقہ میں ناراضی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جنوبی افریقہ کے شہریوں نے جمعرات کو اپنی ناراضی کا اظہار کیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفید فام نسل کشی کے بارے میں "جھوٹے دعووں" نے صدر سیرل رامافوسا کے ساتھ ان کی بات چیت پر غلبہ حاصل کر لیا۔

بہت سے لوگوں نے اس پر شک کیا کہ آیا واشنگٹن کا ان کا سفر اتنی محنت کے قابل تھا۔ خاص طور پر چونکہ رامافوسا کے وفد میں جنوبی افریقہ میں مقبول سفید فام گالف کھلاڑی شامل تھے۔

رامافوسا کو امید تھی کہ بدھ کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے ساتھ بات چیت سے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ ترتیب دیا جائے گا جو امریکی صدر کے جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے خراب ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی زیادہ تر بات چیت میں اپنے مہمان کا سامنا جھوٹے دعووں سے کیا کہ جنوبی افریقہ کے سفید فام اقلیتی کسانوں کو منظم طریقے سے قتل کیا جا رہا ہے اور ان کی زمینیں ضبط کی جا رہی ہیں۔

ایک اور زیلینسکی

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈیلی ماویرک اخبار کی ربیکا ڈیوس نے لکھا کہ وہ ایک اور زیلینسکی میں تبدیل نہیں ہوئے، انہیں دنیا کے سب سے خوفناک بدمعاش جوڑے کی طرف سے ذاتی طور پر توہین کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

اس سے وہ فروری میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک میٹنگ کا حوالہ دے رہے تھے جس میں ٹرمپ اور ان کے نائب جے ڈی وینس نے یوکرینی صدر زیلینسکی کو تنقید کا نشانہ بنایاتھا۔ انہوں نے زیلنسکی کو یوکرین کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد کے بعد امریکہ کے احسان مند نہ ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس دوران زیلینسکی نے اپنے معاملے کا سختی سے دفاع کرنے کی کوشش کی تھی۔

صدر سیرل رامافوسا وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے ساتھ (رائٹرز)

کچھ لوگوں کے لیے رامافوسا کی پرسکون طبیعت نے سوالات پیدا کیے کہ تنقید کا سامنا کرنے کے بعد کیا حاصل ہوا۔ جوہانسبرگ کی سڑکوں پر ایک ٹریڈ یونین کے رکن 40 سالہ سوبیلو موتھا نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ کوئی سفید فام نسل کشی نہیں ہے لہذا یہ دورہ میرے لیے بے فائدہ تھا۔

سفید فاموں کے ساتھ سلوک

خیال رہے جنوبی افریقہ کے صدر ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ چند مہینوں میں اٹھائے گئے اقدامات کے پیش نظر ایک جارحانہ استقبال کے لیے تیار تھے۔ ٹرمپ نے جنوبی افریقہ کو امداد منسوخ کر دی تھی اور سفید فام اقلیت کو پناہ کی پیشکش کی تھی۔ ملک کے سفیر کو بے دخل کر دیا تھا اور عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے مقدمے پر جنوبی افریقہ پر تنقید کی تھی۔ لیکن ٹرمپ ہر وقت صرف جنوبی افریقہ میں سفید فاموں کے ساتھ سلوک پر بات کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ایک ویڈیو کلپ دکھایا اور مضامین کا مطالعہ کیا جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ان کے دعووں کو ثابت کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں