دمشق میں "ٹرمپ ٹاور" کا منصوبہ .... "ٹائیگر" گروپ نے تفصیلات جاری کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

گزشتہ دنوں شام میں یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے دار الحکومت دمشق میں ایک فلک بوس عمارت تعمیر کیے جانے کا منصوبہ زیر غور ہے۔

45 منزلوں پر مشتمل اور لاگت 20 کروڑ ڈالر

برطانوی اخبار "گارڈین" کے مطابق، ٹائیگر نامی ریئل اسٹیٹ گروپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ دمشق میں "ٹرمپ ٹاور" کے منصوبے پر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ اعلان صدر ٹرمپ کی جانب سے ریاض میں دیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انھوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی درخواست پر شام پر سے امریکی پابندیاں ہٹانے کا اعلان کیا۔

ٹائیگر گروپ کے سربراہ ولید الزعبی نے بتایا کہ اس ٹاور کی ممکنہ بلندی 45 منزلوں تک ہو سکتی ہے اور اس پر بیس کروڑ ڈالر تک کا خرچ آئے گا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی کمپنی اس منصوبے کو امن کی علامت کے طور پر پیش کرے گی اور یہ ایک پیغام ہو گا کہ شام ایک بہتر مستقبل کا مستحق ہے۔ ان کے بقول، اس وقت کمپنی دمشق میں مختلف مقامات کا جائزہ لے رہی ہے جہاں یہ ٹاور تعمیر ہو سکتا ہے، اور منصوبے کے نقشے کے مطابق منزلوں کی تعداد میں کمی بیشی بھی ممکن ہے۔

لاس ویگاس میں ٹرمپ ٹاور (آئسٹوک)
لاس ویگاس میں ٹرمپ ٹاور (آئسٹوک)

زعبی نے بتایا کہ ان کی کمپنی رواں ہفتے عمارت کی تعمیر کے لیے با ضابطہ اجازت نامے کے حصول کے لیے درخواست دے گی، تاہم "ٹرمپ" کے نام کو استعمال کرنے سے پہلے اس کی تجارتی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ قانونی منظوری اور لائسنسنگ کے بعد تعمیراتی عمل میں تین سال لگ سکتے ہیں۔

سعودی ولی عہد ، ٹرمپ اور الشرع ریاض میں (فرانس پریس)
سعودی ولی عہد ، ٹرمپ اور الشرع ریاض میں (فرانس پریس)

زعبی نے یہ بھی بتایا کہ جنوری میں ان کی شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات ہوئی، جس میں اس منصوبے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ان کے مطابق، عمارت پر "ٹرمپ" کا نام سونے سے کندہ کیا جائے گا اور یہ ٹاور شام کے لیے ایک روشن علامت اور جنگ زدہ ملک کی عالمی منظرنامے پر واپسی کی علامت ہو گا۔

پابندیوں کی تاریخ

واضح رہے کہ شام پر 1979 سے امریکی پابندیاں عائد ہیں، جو 2011 میں اس وقت مزید سخت کر دی گئیں جب اس وقت کے صدر بشار الاسد نے پُر امن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔

اگرچہ گزشتہ دسمبر میں عسکری دھڑوں نے الاسد حکومت کو اقتدار سے ہٹا دیا، لیکن امریکہ نے ان پابندیوں کو برقرار رکھا تھا۔

تاہم گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے ریاض سے اعلان کیا کہ وہ سعودی ولی عہد کی درخواست پر یہ پابندیاں اٹھا رہے ہیں۔

ان پابندیوں کے خاتمے کے بعد اب ٹرمپ ٹاور کا منصوبہ عملی شکل اختیار کر سکتا ہے، اور زعبی اس ہفتے دمشق کا سفر کریں گے تاکہ عمارت کی تعمیر کے لیے با ضابطہ لائسنس حاصل کرنے کی درخواست دے سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں