’’میں خیریت سے ہوں‘‘جو بائیڈن کا کینسر کی تشخیص کے بعد پہلا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ کے سابق صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ اپنی صحت سے متعلق اچھی حالت میں ہیں۔ یہ بیان اُن کی جانب سے اس وقت سامنے آیا جب انہیں گذشتہ ہفتے مثانے کے کینسر تشخیص ہوئی تھی۔

جو بائیڈن نے یہ مختصر گفتگو ریاست کنیکٹیکٹ کے برادلی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اس وقت کی، جب وہ اپنے نواسے کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے۔ یہ اُن کا پہلا براہِ راست ردِعمل ہے جو انہوں نے سرطان کی تشخیص کے بعد دیا ہے۔

بائیڈن نے پیر کے روز اپنے حامیوں کے نام ایک پیغام میں ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ "کینسر ہم سب کو کسی نہ کسی طور چھو لیتا ہے۔ میں اور جل (اہلیہ) نے ہمیشہ مشکل وقت میں حوصلہ اور صبر سے کام لیا ہے۔ آپ سب کی محبت اور حمایت کا تہہ دل سے شکریہ"۔

تاہم صدر کے منظر عام سے ہٹنے پر اُن کی سابقہ انتظامیہ پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ پیر کو نائب صدر جے ڈی وینس نے سوال اٹھایا کہ آیا بائیڈن کے اردگرد موجود ٹیم کو ان کی صحت سے متعلق پہلے سے علم تھا۔

وینس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا "مجھے نہیں لگتا کہ وہ امریکی قوم کے لیے مؤثر طریقے سے خدمات انجام دینے کے قابل تھے۔ یہ صرف سیاسی اختلاف نہیں بلکہ سنجیدہ تشویش ہے، کیونکہ ان کی جسمانی حالت قیادت کی متقاضی نہیں تھی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں بائیڈن سے کم اور ان لوگوں سے زیادہ مایوس ہوں جو انہیں اقتدار میں باقی رکھنے کے لیے حقائق چھپاتے رہے"۔

ادھر معروف صحافیوں جیک ٹیپر اور ایلکس تھامسن نے اپنی کتاب "دی اوریجنل سن" میں دعویٰ کیا ہے کہ بائیڈن کے قریبی حلقے نے ان کی دماغی صلاحیتوں میں کمی کو چھپایا اور ان کے دوبارہ انتخاب کے فیصلے کو خطرناک قرار دیا۔

تاہم جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ جِل بائیڈن نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں