پیرس رے پیرس : سینکڑوں مریض بچوں کو کئی سال بعد انصاف مل گیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فرانس کی ایک عدالت نے ایک سرجن کو کم از کم بیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس سرجن نے ہسپتال ۔میں علاج کے لیے انے والے سینکڑوں نوعمر بچوں کو بد اخلاقی اور ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔ جس سے فرانس کے ہسپتالوں کا بچوں کے لیے بھی غیر محفوظ ہونے کا ایک بڑا حوالہ سامنے آیا ہے۔

تاہم نہیں کہا جا سکتا کہ یورپ کے باقی ملکوں کے بڑے چھوٹے شہروں ہسپتالوں میں حالات پیرس جیسے بظاہر خوبصورت شہر کے مقابلے میں کتنے اچھے یا گھناؤنے ہیں۔ کیونکہ تمام یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھی ایک ہی طرح کا طرز زندگی اختیار کر رکھا ہے۔

فرانس کے اس سرجن نے اپنی اس طویل عرصے سے جاری ہوس کاری کا اعتراف بھی کر لیا ہے کہ وہ ہسپتال آنے والے سینکڑوں بچوں کو پچھلے بیس سال سے نشانہ بنا رہا ہے۔

قابل غور بات ہے کہ فرانس کا نظام اور عدالتیں اس بد بخت کو بیس سال تک پکڑ نہ سزا دے سکا۔ اس لیے نہیں کہا جا سکتا کہ اسی ہسپتال کے باقی حکام اور عملہ اس واقعات میں کس حد تک ملوث رہا ہے۔ البتہ ہسپتال کا کاروباری دھندہ چلائے رکھنے کے لیے خبر میں اس ہسپتال کا نام نہیں دیا گیا ہے۔ اگرچہ فرانس کے باقی ہسپتالوں پر بھی اس سے حرف آئے گا اور ان کی ساکھ خطرے میں جائے گی۔

اس فرانسیسی شہری سرجن کو اب بیس سال بعد سزا مل جانے پر بھی کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان بچوں کو انصاف مل گیا۔ اس بارے میں عدالت سے جڑے حکام نے بھی سوال اٹھایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں