بولڈر جیوئش فیسٹیول: اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر زور دینے والے گروپ پر حملہ
اسرائیلی قیدیوں کی قید کو 600 سے زیادہ دن گذر گئے ہیں
حماس کے قیدی اومری میران کی حماس کے ہاتھوں قید کو 611 دن گذر چکے ہیں اور ان کا خاندان خوف میں جی رہا ہے، یہ بات ان کے بہنوئی موشے لاوی نے اتوار کو بولڈر جیوئش فیسٹیول میں جمع ہونے والوں کو بتائی۔ یہاں ایک ہفتے قبل ایک شخص نے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے ایک گروپ پر آتش گیر بم سے حملہ کیا تھا۔
لاوی نے ایک خاموش اور ساکت ہجوم سے کہا، "ہمیں صرف جزوی، محدود اور بعض اوقات اس کی زندگی کا خوفناک ثبوت ملا۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ کتنی تکلیف میں ہے، وہ خوراک، پانی، سورج کی روشنی سے محروم ہے، وہ تشدد اور زیادتی کا شکار ہے۔"
حکام نے کہا کہ "آزاد فلسطین" کا نعرہ لگانے والے شخص نے بولڈر فیسٹیول کے مظاہرین پر آتش گیر مادہ پھینکا۔ تیس سال سے جاری یہودی ثقافتی تہوار میں اسرائیلی قیدیوں کی کہانیوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ فیسٹیول کے منتظمین نے کہا کہ ان کا مقصد غزہ میں بدستور قید 55 افراد کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔
حکام نے بتایا کہ پرل سٹریٹ مال میں 15 افراد اور ایک کتا حملے کا نشانہ بنے۔ ان میں آٹھ خواتین اور سات مرد شامل ہیں۔ مردوں میں ایک ہولوکاسٹ سے بچ جانے والا شخص ہے۔
رن فار دی لائیوز گروپ کو حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ بولڈر چیپٹر ہر ہفتے کے آخر میں مال میں مظاہرہ کرتا ہے۔
کئی سو لوگ اتوار کی واک میں شامل ہوئے۔ کولوراڈو کے سینیٹر جان ہیکن لوپر بھی شرکاء میں شامل تھے۔
حملے کی جگہ کے قریب ایک سٹیج پر سینکڑوں لوگ جمع تھے۔ دکاندار روایتی یہودی اور اسرائیلی کھانے فروخت کر رہے تھے۔ "قیدی چوک" کے نشان والے خیمے میں قیدیوں کے لیے خالی کرسیوں کی قطاریں رکھی گئی تھیں اور یہ الفاظ لکھے تھے: "انھیں ابھی گھر لایا جائے!"
لاوی نے اپنے خاندان کی حمایت کرنے پر مقامی مظاہرین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے قیدی میران کو ایک نرم مزاج اور پیار کرنے والا شوہر اور دو چھوٹے بچوں کا باپ قرار دیا جسے باغبانی سے دلچسپی ہے۔
اسرائیلی نژاد امریکی میرو سوبیلی بولڈر کے شمال میں ایک شہر سے قیدیوں کے اہل خانہ سے اظہارِ یک جہتی کے لیے شریک ہوئیں۔ میران کا ایک بچہ سکرین پر نمودار ہوا اور عبرانی میں کہا، "جب ابو غزہ سے واپس آئیں گے تو وہ مجھے کنڈرگارٹن لے جائیں گے۔"
سوبیلی نے نمناک آنکھوں کے ساتھ کہا، "ان کا ہم سے بات کرنا اور ہمارا ساتھ دینا بہت متأثر کن ہے۔ یہ صرف ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کے کتنا قریب ہیں۔"
پینتالیس سالہ محمد صابری سلیمان پر جمعرات کو کولوراڈو کی ریاستی عدالت میں حملے کے لیے 118 الزامات عائد کیے گئے جن میں قاتلانہ حملہ، دھماکہ خیز مواد کا غیر قانونی استعمال اور جانوروں پر ظلم شامل ہیں۔ اس پر وفاقی عدالت میں نفرت انگیز جرم کا الزام بھی عائد کیا گیا۔
مصری شہری سلیمان وفاقی حکام کے مطابق غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم تھا، نے پولیس کو بتایا کہ وہ "تمام صہیونی لوگوں کو قتل کرنے" کا خواہشمند تھا۔
شہر بولڈر میں ہونے والا تشدد امریکہ میں بڑھتی ہوئی یہود دشمنی کا مظہر ہے۔
امریکی امیگریشن حکام نے منگل کو سلیمان کی اہلیہ اور پانچ بچوں کو حراست میں لے لیا۔ وہ بھی مصری ہیں۔ ان پر حملے کا الزام نہیں لگایا گیا۔ بدھ کے روز ایک وفاقی جج نے ان کی ملک بدری روکنے کی درخواست منظور کی۔
بولڈر پولیس ڈیپارٹمنٹ اور ایف بی آئی نے فیسٹیول کے ساتھ ساتھ مقامی عبادت گاہوں اور بولڈر جیوئش کمیونٹی سنٹر میں سکیورٹی بڑھانے کے لیے تعاون کیا۔ افسران نے تقریب کے داخلی راستوں کی حفاظت کی اور پولیس چیف سٹیفن ریڈفرن نے کہا کہ ہجوم میں کچھ سادہ لباس والے افسران موجود ہوں گے۔ سٹیج کے قریب ایک بلند جگہ پر تینوں نے رائفلوں کے ساتھ ہجوم کی نگرانی کی اور دوربین کا استعمال کیا جبکہ ڈرون بھی سر پر اڑ رہے تھے۔
کالج کے ایک 19 سالہ طالبِ علم گولڈ ایڈلسٹائن نے کہا کہ مذہب یا سیاست سے قطع نظر میلے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت انسانیت کا ایک عظیم مظاہرہ تھا۔
انہوں نے کہا، "ہم یہاں جنگ کی حمایت کے لیے نہیں آئے۔ ہم یہاں اپنے مذہب، اپنے لوگوں اور ان معصوموں کی حمایت میں آئے ہیں جو بدستور قید میں ہیں۔"