’ناکام حکمران، افسران کو بچا نہ سکا‘:ٹرمپ کی گورنر کیلیفورنیا پر سخت تنقید

لاس اینجلس میں مظاہروں کے بعد سیاسی الزامات کا تبادلہ، درجنوں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا، جس میں انہوں نے لاس اینجلس میں جاری مظاہروں اور فوج کی تعیناتی کے تناظر میں خبردار کیا تھا کہ "جمہوریت پر حملہ ہو رہا ہے"۔

ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ "کیلیفورنیا کا نااہل گورنر اُس وقت بھی بروقت تحفظ فراہم نہ کر سکا جب امیگریشن اور کسٹمز کے بہادر افسران مشتعل ہجوم، شرپسندوں اور باغی عناصر کے حملے کی زد میں آئے"۔

انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر وہی مشہور نعرہ دہرایا: "آئیے امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں"۔

نیوسم کی تنقید اور وائٹ ہاؤس کا جوابی وار

گیون نیوسم نے منگل کے روز اپنے ایک مختصر خطاب میں سابق صدر ٹرمپ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں لاس اینجلس پر "فوجی محاصرہ مسلط کرنے" کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

اس پر ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر کمیونیکیشن اسٹیفن چانگ نے بدھ کو "ایکس" پر تبصرہ کیا کہ"لگتا ہے نیوسم نے کملا ہیرس اور جو بائیڈن کی ہارنے والی انتخابی ٹیم کو ہائر کر لیا ہے، اسی لیے اب وہ بھی جمہوریت کو خطرے میں بتا رہے ہیں"۔

وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے بھی "ایکس" پر لکھا کہ"ڈیموکریٹ پارٹی کا اصل اصول صرف یہی ہے کہ ہر امریکی شہر کو تارکین وطن سے بھر دیا جائے"۔

وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان ابیگیل جیکسن نے بھی نیوسم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ"یہ نیوسم کا روایتی نسخہ ہے. اپنی ناکامی کا الزام ٹرمپ پر ڈال دینا۔ نہایت بچگانہ اور متوقع"۔

پولیس کارروائی اور گرفتاریاں

کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں پولیس نے بدھ کو اعلان کیا کہ انہوں نے ان مظاہرین میں سے کئی افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جو غیرقانونی تارکین وطن کی ملک بدری سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی کے خلاف سڑکوں پر نکلے تھے۔

پولیس کے مطابق گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب مظاہرین نے کرفیو کی خلاف ورزی کی۔

یاد رہے کہ چند روز قبل، ٹرمپ نے پے در پے راتوں کو ہونے والی جھڑپوں کے بعد ایک غیر معمولی فیصلہ لیتے ہوئے 700 میرینز اور 2000 نیشنل گارڈ کے اہلکار تعینات کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ فورسز ابتدائی طور پر وفاقی عمارات کی حفاظت کے لیے تعینات کی گئیں، تاہم اب ان کا دائرہ کار امیگریشن حکام کو تحفظ فراہم کرنے تک بڑھا دیا گیا ہے، جو غیرقانونی تارکین وطن کی گرفتاری کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں