تنازع بھڑکنے کی صورت میں ایرانی وزیر دفاع نے امریکی اڈوں پر حملے کی دھمکی دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ نے کہا ہے کہ اگر کوئی تنازع شروع ہوا تو ایران خطے میں موجود تمام امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ یہ بیان ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کے چھٹے دور سے چند روز قبل دیا گیا ہے جب کہ اس بات کے امریکی اشارے بھی سامنے آئے ہیں کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو متبادل منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔

نصیر زادہ نے آج بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا "دوسری جانب کے بعض ذمے داران دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوئے تو فوجی کارروائی کی جائے گی، لیکن اگر تنازع مسلط کیا گیا تو ہم خطے میں تمام امریکی اڈوں کو پوری قوت سے نشانہ بنائیں گے"۔

یہ بیان برطانوی خبر رساں ایجنسی نے نقل کیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ حالیہ دنوں میں تہران نے ایک ایسا میزائل تجربہ کیا ہے جس کا وار ہیڈ دو ٹن وزنی ہے۔

نصیر زادہ نے واضح کیا کہ ان کا ملک اپنے میزائل پروگرام پر کسی بھی قسم کی پابندی کو قبول نہیں کرے گا۔

زیادہ جارحانہ رویہ

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار ایران کے ساتھ معاملات میں فوجی راستے کے امکان کی جانب اشارہ کیا ہے، اگرچہ وہ خود مذاکرات کو ترجیح دینے کا بھی کہتے رہے ہیں۔ گزشتہ روز انھوں نے یہ بھی کہا کہ "تہران مذاکرات میں پہلے سے زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کر چکا ہے"۔

یہ سارا پس منظر ایسے وقت میں ہے جب چھٹے دور کی بات چیت آئندہ اتوار کو سلطنت عمان میں متوقع ہے، جیسا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اشارہ دیا۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ یہ مذاکرات جمعرات کو ہوں گے۔

ادھر توقع ہے کہ ایران امریکی پیشکش کے جواب میں، جو ایک ہفتہ قبل عمانی ثالث کے ذریعے پیش کی گئی تھی، ایک جوابی تجویز پیش کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں