غزہ میں اسرائیل کی مسلط کردہ ’فاقہ کشی جنگی جرم‘ ہے: سویڈن

28 اپریل 2025 کو شمالی غزہ کی پٹی کے بیت لاہیا میں فلسطینی ایک خیراتی باورچی خانے سے تیار شدہ کھانا وصول کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سویڈن کی وزیرِ خارجہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اسرائیل کا غزہ میں انسانی امداد کی اجازت دینے سے انکار اور امداد کے تقسیمی مقامات کو نشانہ بنانا شہریوں کو بھوکا مارنے کا سبب بن رہا ہے جو جنگی جرم ہے۔

جون کے اوائل میں اقوامِ متحدہ کے سربراہ برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا تھا، غزہ کی پٹی میں امداد کی تقسیم کے مقامات کے ارد گرد شہریوں پر مہلک حملے "جنگی جرم" ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت کئی حقوق گروپوں نے بھی اسرائیل پر نسل کشی کا الزام لگایا ہے۔

اسرائیل نے اس اصطلاح کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

سویڈش وزیرِ خارجہ ماریا مالمر سٹینرگارڈ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، "شہریوں کی بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک جنگی جرم ہے۔ زندگی بچانے والی انسانی امداد کو کبھی بھی سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔"

انہوں نے کہا، "اس وقت ایسے مضبوط اشارے مل رہے ہیں کہ اسرائیل بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنے وعدوں سے انحراف کر رہا ہے۔ یہ بہت اہم ہے کہ خوراک، پانی اور ادویات تیزی سے شہری آبادی تک پہنچیں جن میں سے اکثر خواتین اور بچے ہیں اور وہ مکمل طور پر غیر انسانی حالات میں زندگی گذار رہے ہیں۔"

سویڈن نے دسمبر 2024 میں اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی انروا کو فنڈز روکنے کا اعلان کیا تھا جب اسرائیل نے حماس کے مزاحمت کاروں کو آڑ فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔

سویڈن کے وزیر برائے بین الاقوامی ترقی بینجمن دوسا نے جمعرات کی پریس کانفرنس میں بتایا، سٹاک ہوم اب اقوامِ متحدہ کی دیگر تنظیموں کے ذریعے امداد پہنچا رہا ہے اور "غزہ میں انسانی امداد کے لیے یورپی یونین میں دوسرا بڑا اور دنیا کا پانچواں بڑا عطیہ دہندہ ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے غزہ کے لیے ملک کی انسانی امداد فی الحال ایک بلین کرونر (105 ملین ڈالر) سے زیادہ ہے جبکہ 2025 کے لیے مختص فنڈنگ کل 800 ملین کرونر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں