عراقی حکومت نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عراقی سرزمین پر امریکی مفادات کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ یہ بات عراق کے سینیئر سیکیورٹی حکام کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔
اسرائیل کے 13 جون سے ایران پر شدید حملوں کے بعد رات گئے ایران نے بھی اسرائیل کو سخت جواب دینا شروع کیا ہے جس سے پورے خطے میں کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔
عراق کی حکومت ایران کی قریبی اتحادی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ عراق ایران کے سب سے بڑے دشمن امریکہ کے ساتھ سٹریٹیجک شراکت داری رکھتا ہے۔ اس وجہ سے عراقی سرزمین پر 2500 امریکی فوجی موجود ہیں جو داعش سے نمٹنے کے لیے بتائے جاتے ہیں۔
عراق کے سیکیورٹی سے متعلق اعلیٰ حکام کا 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ جاری جنگی صورتحال میں ان کا ملک بھی لپیٹ میں نہ آجائے۔ اس لیے ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عراقی سرزمین پر امریکی اہداف کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
معلوم ہوا ہے کہ تہران نے عراق کی اس درخواست کو درست معنوں میں سمجھا ہے۔ تاہم امریکہ نے اسرائیل و ایران کے درمیان یہ جنگی صورتحال پیدا ہونے سے پہلے ہی بدھ کے روز بغداد کے سفارتخانہ میں اپنے سٹاف کو کم کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور وجوہات سیکیورٹی سے متعلق بتائی تھیں۔
یاد رہے عراق میں ایرانی حمایت یافتہ کئی عسکری گروپ موجود ہیں جن میں سب سے زیادہ مؤثر کتائب حزب اللّٰہ ہے۔
-
ایران کا اسرائیل کا ایک اور طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، تل ابیب نے تردید کر دی
اسرائیلی ایف-35 طیارے کو مغربی ایران میں نشانہ بنانے کا دعویٰ، پائلٹ کی تلاش ...
بين الاقوامى -
ایران کے جدید ترین ڈرونز "شاہد 129" اور "شاہد 136" اسرائیل پر حملوں میں شامل
ان ڈرونز کو ایران پہلے بھی شام، یمن اور عراق میں استعمال کر چکا ہے
بين الاقوامى -
ایران آبنائے ہرمز کی بندش کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے: قانون ساز
یہ تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کا اہم ترین داخلی مقام ہے
بين الاقوامى