امریکی اہداف کو نشانہ نہ بنایا جائے ، عراقی حکومت کا ایران سے مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراقی حکومت نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عراقی سرزمین پر امریکی مفادات کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ یہ بات عراق کے سینیئر سیکیورٹی حکام کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔

اسرائیل کے 13 جون سے ایران پر شدید حملوں کے بعد رات گئے ایران نے بھی اسرائیل کو سخت جواب دینا شروع کیا ہے جس سے پورے خطے میں کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔

عراق کی حکومت ایران کی قریبی اتحادی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ عراق ایران کے سب سے بڑے دشمن امریکہ کے ساتھ سٹریٹیجک شراکت داری رکھتا ہے۔ اس وجہ سے عراقی سرزمین پر 2500 امریکی فوجی موجود ہیں جو داعش سے نمٹنے کے لیے بتائے جاتے ہیں۔

عراق کے سیکیورٹی سے متعلق اعلیٰ حکام کا 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ جاری جنگی صورتحال میں ان کا ملک بھی لپیٹ میں نہ آجائے۔ اس لیے ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عراقی سرزمین پر امریکی اہداف کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

معلوم ہوا ہے کہ تہران نے عراق کی اس درخواست کو درست معنوں میں سمجھا ہے۔ تاہم امریکہ نے اسرائیل و ایران کے درمیان یہ جنگی صورتحال پیدا ہونے سے پہلے ہی بدھ کے روز بغداد کے سفارتخانہ میں اپنے سٹاف کو کم کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور وجوہات سیکیورٹی سے متعلق بتائی تھیں۔

یاد رہے عراق میں ایرانی حمایت یافتہ کئی عسکری گروپ موجود ہیں جن میں سب سے زیادہ مؤثر کتائب حزب اللّٰہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں