ایران کے جدید ترین ڈرونز "شاہد 129" اور "شاہد 136" اسرائیل پر حملوں میں شامل

ان ڈرونز کو ایران پہلے بھی شام، یمن اور عراق میں استعمال کر چکا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران نے جمعے کے روز اسرائیلی فضائی حدود میں درجنوں خودکش ڈرونز بھیجے، جن میں اس کی دو جدید ترین ڈرونز شامل تھے۔ یہ دو جدید ڈرونز "شاہد 129" اور "شاہد 136" ہیں۔ یہ دونوں ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی میں سب سے ترقی یافتہ ماڈل سمجھے جاتے ہیں۔

شاہد 129

"شاہد 129" کو ایک جدید ٹیکنیکل ڈرون تصور کیا جاتا ہے، جو امریکی "ایم کیو-1 پریڈیٹر" کے طرز پر تیار کیا گیا ہے۔ یہ ڈرون مسلسل 24 گھنٹے تک پرواز کر سکتا ہے اور 1700 کلومیٹر تک فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اسے ایران کے وسط سے اسرائیل کے اندرونی علاقوں تک پہنچنے کے قابل بناتا ہے، وہ بھی بغیر ایندھن بھرے یا کسی معاون اسٹیشن کے۔

یہ ڈرون چار "صُدَید" گائیڈڈ میزائل لے جا سکتا ہے جو اسے زمین پر ہدف کو درستگی سے نشانہ بنانے کے قابل بناتے ہیں۔ اس میں تھرمل امیجنگ، جدید مواصلاتی نظام اور ریموٹ کنٹرول سسٹم نصب ہے، جس کی بدولت یہ الیکٹرانک جنگی ماحول میں بھی مؤثر انداز میں کام کر سکتا ہے۔

پاسداران انقلاب اسے پہلے شام، یمن اور عراق جیسے علاقوں میں امریکی اور دیگر اہم اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کر چکے ہیں۔ مغربی انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق ایران اس ڈرون کی ہتھیاری صلاحیت اور ریڈار سے بچاؤ کی خصوصیات کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے۔

شاہد 136

"شاہد 136" ایک خودکش ڈرون ہے جسے صرف ایک بار استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ اپنے ہدف سے ٹکرا کر اس میں دھماکہ کرتا ہے اور اس میں 20 سے 50 کلوگرام وزنی دھماکہ خیز مواد نصب کیا جا سکتا ہے۔

یہ ڈرون اپنی سادہ ساخت کی وجہ سے نمایاں ہے: سیدھے پر، پتلا جسم اور پچھلے حصے میں چھوٹا پسٹن انجن، جس سے اس کی تیاری کم لاگت میں ممکن ہوتی ہے۔ یہی سادگی ایران کو ایک ساتھ بڑی تعداد میں یہ ڈرون فضا میں چھوڑنے کا موقع دیتی ہے، جس سے دفاعی نظاموں کے لیے ان سب کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اگرچہ اس کی ٹیکنالوجی محدود ہے لیکن "شاہد 136" میں GPS سسٹم اور بعض صورتوں میں چھوٹے سائز کا کیمرا بھی شامل ہوتا ہے۔ جس سے اسے نسبتاً کمزور یا غیر متحرک اہداف کو نشانہ بنانے میں قابلِ قبول درستگی حاصل ہو جاتی ہے۔

یہ ڈرونز کم بلندی اور سست رفتاری سے پرواز کرتے ہیں، جو انہیں ریڈار سے بچ نکلنے میں مدد دیتی ہے، خاص طور پر جب یہ ایک ساتھ بڑی تعداد میں لانچ کیے جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں