پاکستانی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات اپنی نوعیت کی منفرد ملاقات ہے۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جعمرات کو جاری بیان کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس میں یہ اعلیٰ سطحی ملاقات کابینہ کے کمرے میں دوپہر کے کھانے کے دوران طے کی گئی جس کے بعد اوول آفس کا دورہ کیا گیا۔
بیان کے مطابق صدر ٹرمپ کے ہمراہ وزیر خارجہ سینیٹر مارکو روبیو اور مشرق وسطیٰ کے امور کے لیے امریکی خصوصی نمائندے، جناب سٹیو وٹکوف بھی موجود تھے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔
بحث کا دائرہ دو طرفہ تعاون کو کئی شعبوں میں بڑھانے کے مواقع پر بھی محیط تھا، جس میں تجارت، اقتصادی ترقی، معدنیات، مصنوعی ذہانت، توانائی، کریپٹو کرنسی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ طویل مدتی سٹریٹجک ہم آہنگی اور مشترکہ مفادات پر مبنی باہمی مفاد کے تجارتی شراکت داری کے قیام میں دلچسپی ظاہر کی۔
صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پیچیدہ علاقائی حالات کے دوران قیادت اور فیصلہ سازی کی تعریف کی۔
پاکستان فوج کے بیان کے مطابق یہ ملاقات پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مضبوط کرنے کی جاری کوششوں میں ایک اہم موقع تھا، جو امن، استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد پر مبنی ہے۔
ملاقات کے دوران، چیف آف آرمی سٹاف نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے صدر ٹرمپ کے تعمیری اور نتائج پر مبنی کردار کی تعریف کی، جس نے حالیہ علاقائی بحران میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں سہولت فراہم کی۔
فیلڈ مارشل نے صدر ٹرمپ کی ریاستی حکمت عملی اور ان کی عالمی برادری کے سامنے درپیش پیچیدہ چیلنجز کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت کو تسلیم کیا۔
پاکستانی بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس کے بدلے میں پاکستان کی علاقائی امن اور استحکام کے لیے جاری کوششوں کی تعریف کی، اور دونوں ریاستوں کے درمیان مضبوط انسداد دہشت گردی تعاون کی تعریف کی۔ دونوں طرف نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں جاری تعاون کے عزم کی توثیق کی۔
ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ روکنے کا شکریہ ادا کرنے کے لیے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا تھا۔
کھانے کے بعد انہوں نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے (پاکستان انڈیا) جنگ روکنے میں اہم کردار ادا کیا اور ’میں پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقات کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتا ہوں۔‘
جنگ بندی کے لیے انہوں نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی بھی تعریف کی اور کہا: ’دو بہت ذہین افراد نے اس جنگ کو جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا؛ یہ ایک جوہری جنگ بن سکتی تھی۔‘
واضح رہے کہ کسی امریکی صدر نے تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی ملک کے آرمی چیف سے اس طرح براہ راست ملاقات کی اور اسے ظہرانے پر مدعو کیا ہے۔
اس سے قبل جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور صدارت میں امریکی صدور سے ملاقاتیں کیں لیکن وہ ملاقات بحیثیت صدر تھی۔
آرمی چیف کی اس اندز سے امریکی صدر سے ملاقات جبکہ سویلین لیڈر شپ موجود نہ ہو اور صرف آرمی چیف کو مدعو کیا گیا ہے یہ اپنی نوعیت کی پہلا واقعہ ہے۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی واشنگٹن کا دورہ کیا تھا، تاہم وہ ملاقاتیں دفاعی نوعیت کی تھیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر وہ پہلے فوجی سربراہ ہیں جنھوں نے وائٹ ہاﺅس میں امریکی صدر سے اس سطح پر براہ راست ملاقات کی ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ کو وائٹ ہاﺅس مدعو کرنا امریکی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی سٹریٹجک ترجیح کا واضح اشارہ ہے، ملاقات اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکہ علاقائی استحکام کےلیے پاکستان کے کردار سے بخوبی واقف ہے۔