ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید جھڑپوں کو سات دن گزرنے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس اسرائیلی جنگ میں شامل ہونے کی طرف مائل ہو چکے ہیں، جو 13 جون کو بھڑکی تھی۔
آج جمعرات کو با خبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اعلیٰ امریکی حکام آئندہ دنوں میں ایران پر حملہ کرنے کے امکان کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ یہ بات بلومبرگ نیوز ایجنسی نے بتائی۔
اطلاعات سے واضح ہوا ہے کہ امریکی حملہ ایران کی انتہائی محفوظ فردو ایٹمی تنصیب پر مرکوز ہو گا، جو دار الحکومت تہران سے تقریباً 95 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔
واضح رہے کہ دنیا میں ایک ایسا واحد بم موجود ہے جو اب تک کبھی استعمال نہیں ہوا، اور وہ یورینیم افزودگی کی اس ایرانی تنصیب کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو سرنگوں کے ایک محفوظ نیٹ ورک کے اندر ایک پہاڑ کے نیچے تعمیر کی گئی ہے۔ العربیہ کی نمائندہ کے مطابق یہ پہاڑ قُم شہر سے تقریباً 32 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
یہ بم کیا ہے؟
یہ ہے GBU-57 E/B بم، جسے بی-2 اسپرٹ اسٹیلتھ بم بار طیارہ لے کر اڑتا ہے، جو خود کو ریڈار سے چھپا سکتا ہے۔
یہ بم 30 ہزار پونڈ (13,607 کلوگرام) وزنی ہے اور اسے دنیا کا سب سے طاقت ور غیر جوہری بم سمجھا جاتا ہے۔ یہ واحد بم ہے جو زمین کے نیچے بنائے گئے مضبوط حفاظتی نظام کو توڑ سکتا ہے۔
"بموں کا باپ"
یہ بم نہایت درستگی سے ہدف کو نشانہ بناتا ہے، اور GBU-43"میسیو آرڈنینس ایئر بلاسٹ" بم سے تعلق رکھتا ہے، جسے کبھی کبھی "بموں کا باپ" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بات فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔
اسے بعض اوقات "قلعہ بند ٹھکانوں کو توڑنے والا بم" بھی کہا جاتا ہے۔
یہ بم غیر معمولی تباہ کن صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ حقیقتاً وہ واحد ہتھیار ہے جو گہرائی میں چھپی ایرانی جوہری تنصیبات جیسے فوردو کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے کہ یہ زیر زمین 200 فٹ (61 میٹر) تک گھسنے کے بعد پھٹتا ہے، جو اسے اُن میزائلوں یا بموں سے مختلف بناتا ہے جو عموماً ٹکر کے وقت یا اس کے قریب پھٹتے ہیں۔
جی بی یو-57، جس کا ڈیزائن 2000ء کی دہائی کے آغاز میں شروع کیا گیا تھا اور جس کی لمبائی 6.6 میٹر ہے، ایک مخصوص فیوز رکھتا ہے۔
امریکی فضائیہ نے 2015 میں تصدیق کی تھی کہ Massive Ordnance Penetrator یعنی MOP بم کو مشکل اور پیچیدہ اہداف، مثلا اچھی طرح محفوظ کیے گئے مقامات پر موجود تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں تک پہنچنے اور انھیں تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
واحد طیارہ جو یہ بم گرا سکتا ہے، وہ ہے امریکی اسٹیلتھ بم بار B-2، جن میں سے چند طیارے ڈیگو گارسیا میں تعینات ہیں، جو کہ بحرِ ہند میں واقع ایک مشترکہ برطانوی-امریکی فوجی اڈا ہے۔
لہٰذا چوں کہ فردو تنصیب زمین سے تقریباً 260 فٹ (تقریباً 79 میٹر) کی گہرائی میں واقع ہے، اس لیے B-2 بم بار کے ذریعے ایک ہی پرواز میں دو بم گرانا کافی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس قسم کی پرواز کے لیے صاف موسم درکار ہوتا ہے، جس کے لیے فضائی برتری شرط ہے، اور یہی بات ٹرمپ نے گزشتہ روز واضح طور پر کہی، اور اسرائیلی حکام بھی متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کی "فضا" پر مکمل کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔
-
دنیا سانس روکے ہوئے.. ٹرمپ آج "آپریشن روم" میں تیسرا اجلاس منعقد کریں گے
ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ ساتویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ پوری دنیا اس بات کی ...
بين الاقوامى -
اسرائیل کا ایران میں بھاری پانی والے آراک ری ایکٹر کے اطراف علاقہ خالی کرنے کا مطالبہ
ایران اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں کے ساتویں دن تہران، اصفہان، البرز اور دار ...
مشرق وسطی -
نیتن یاہو کے شرق اوسط وژن میں ایران کے لیے جگہ نہیں!
سات اکتوبر 2023 کے بعد مشرق وسطی کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے تشکیل پانے ...
سیاست