ایران اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں کے ساتویں دن تہران، اصفہان، البرز اور دار الحکومت کے قریب کرج کے علاقے میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
دوسری جانب تل ابیب، حیفا اور بیت المقدس میں بھی دھماکے ہوئے، جب کہ ایران کی طرف سے تقریباً 20 میزائل داغے گئے۔ یہ بات آج جمعرات کو العربیہ کے نمائندے نے بتائی۔
نمائندے کے مطابق ایرانی میزائلوں کے داغے جانے کے بعد جلیل، جنوبی اسرائیل اور تل ابیب میں سائرن بجائے گئے۔
دو میزائل تل ابیب کے قریب اور ایک جنوبی علاقے نقب میں گرا، جب کہ بئر سبع کے سوراکو اسپتال پر ایک میزائل نے براہ راست ضرب لگائی۔
اسرائیلی فوج نے بھی اعلان کیا کہ ایران کی طرف سے اسرائیل پر میزائل داغے گئے ہیں اور وہ تل ابیب اور حیفا میں ایرانی میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسرائیلی انتباہ
اس سے قبل، اسرائیلی فوج نے ایرانی شہریوں کو دار الحکومت تہران سے 250 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع آراک کے بھاری پانی کے ری ایکٹر کے آس پاس موجود رہنے سے خبردار کیا، اور علاقے کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا۔
#عاجل ‼️انذار عاجل يوجّهه جيش الدفاع إلى السكان والعاملين والمتواجدين في منطقة القريتيْن الايرانيتيْن أراك-خونداب في المناطق المحددة بالخارطة بضرورة الاخلاء فورًا قبل قيام جيش الدفاع باستهداف بنى تحتية عسكرية تابعة للنظام الإيراني.
— افيخاي ادرعي (@AvichayAdraee) June 19, 2025
🔴هشدار فوری به کارکنان و نیز کلیه افرادی که… pic.twitter.com/X9spQGqCtV
اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخای ادرعی نے یہ انتباہ ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں جاری کیا، جس میں ری ایکٹر کی مصنوعی سیاروں سے لی گئی تصویر شامل تھی جو سرخ دائرے سے گھری ہوئی تھی۔ اسرائیلی بیان میں جس حصے کو سرخ دائرے میں دکھایا گیا، وہ گوگل کی مصنوعی سیاروں کی تصاویر سے حاصل کردہ آراک کی ایٹمی تنصیب سے مطابقت رکھتا ہے، جس میں بھاری پانی کا ری ایکٹر اور بھاری پانی تیار کرنے والا ایک مرکز شامل ہے۔
بھاری پانی
یہ مقام ماضی میں مغربی دنیا کے لیے تشویش کا باعث رہا ہے کیوں کہ بھاری پانی (یعنی ڈیوٹیریم آکسائیڈ) کو پلوٹونیم کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ایٹم بم بنانے کا دوسرا راستہ ہے۔ بھاری پانی جوہری ری ایکٹروں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن اس کے ضمنی پیداوار کے طور پر پلوٹونیم پیدا ہوتا ہے، جسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایران کو ایٹم بم کی تیاری کے لیے یورینیم کی افزودگی کے علاوہ دوسرا راستہ مہیا کرتا ہے، اگر وہ اس کو اپنانے کا فیصلہ کرے۔
ایران نے 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے تحت آراک کے ری ایکٹر کو دوبارہ ڈیزائن کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی تاکہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات کو کم کیا جا سکے۔ سال 2019 میں ایران نے آراک ری ایکٹر کے ثانوی دائرے کو فعال کرنا شروع کیا، جسے اس وقت جوہری معاہدے کی خلاف ورزی نہیں سمجھا گیا، یہ بات ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتائی۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیل نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران کے مختلف علاقوں میں کئی فضائی حملے کیے، جن میں تہران، اصفہان اور البرز شامل تھے۔ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ فضائیہ کے 60 جنگی طیاروں نے گزشتہ چند گھنٹوں میں تہران میں 20 سے زائد عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ فوج نے وضاحت کی کہ نشانہ بنائے گئے مقامات میں "جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے مراکز" اور "میزائل تیار کرنے والے کارخانے" شامل تھے۔
یہ نیا انتباہ ایسے وقت میں آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تیسری بار "آپریشن روم" میں ایک اجلاس منعقد کرنے والے ہیں، جہاں انھیں اپنے مشیروں کی ٹیم کی طرف سے انٹیلی جنس بریفنگ دی جائے گی، جس میں ممکنہ آپشنوں اور خطرات پر بھی گفتگو ہو گی، یہ بات العربیہ کی نمائندہ نے بتائی۔
باخبر ذرائع کے مطابق، اعلیٰ امریکی حکام آئندہ دنوں میں ایران پر حملے کے امکان کے پیشِ نظر تیاری کر رہے ہیں۔
رواں ماہ 13 جون سے اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جن میں عسکری مقامات، راکٹ لانچنگ پلیٹ فارموں اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے درجنوں اعلیٰ ایرانی عسکری کمانڈروں اور کم از کم 10 جوہری سائنس دانوں کو ہلاک کر دیا۔
اس کے جواب میں تہران نے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے اور مزید حملوں کی دھمکی دی، جو دونوں ممالک کے درمیان اپنی نوعیت کی پہلی براہ راست جھڑپ ہے۔
ایرانی رہبر علی خامنہ ای نے زور دے کر کہا کہ ایرانی قوم ہار نہیں مانے گی، خاص طور پر اس لیے کہ اس نے جنگ کی ابتدا نہیں کی۔ انھوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو "احمقانہ" قرار دیا۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جب سے اسرائیل نے ایران کے خلاف "ابھرتا ہوا شیر" (Rising Lion) نامی آپریشن شروع کیا ہے، تہران نے تقریباً 400 بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے 20 شہری علاقوں پر گرے، اور 1000 ڈرون بھیجے۔ اس بات کا اعلان بدھ کی شام ایک اسرائیلی عسکری ذریعے نے کیا۔
-
ایران۔اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں دنیا کی پانچ بدترین ایٹمی تباہ کاریوں کا جائزہ
جوہری تنصیبات پر حملے کا خدشہ، پڑوسی ممالک میں تابکاری کے اخراج کا خطرہ بڑھ گیا
بين الاقوامى -
ٹرمپ کی ایران پر حملے کی منظوری، تہران کو آخری موقع دینے کا عندیہ: امریکی اخبار
امریکی صدر کا امید بھرا دباؤ، اسرائیل کے ساتھ حملوں میں شمولیت کا امکان برقرار
بين الاقوامى -
امریکہ کی ایران پر ممکنہ کارروائی، فوردو نیوکلیئر پلانٹ پر حملے کی تیاری
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اعلیٰ امریکی حکام آئندہ چند روز میں ایران پر ممکنہ ...
بين الاقوامى