اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر خاموشی، یورینیم کا معمہ برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان غیر متوقع جنگ بندی کے اعلان کو کئی گھنٹے گزر چکے ہیں، مگر اب تک اس اقدام کی تفصیلات منظرعام پر نہیں آئیں۔

اس اچانک اعلان کے بعد کئی سوالات نے جنم لیا ہے خصوصاً ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد کہ تہران اب کبھی بھی اپنی جوہری تنصیبات کو دوبارہ نہیں بنائے گا۔

اس کے برعکس ایرانی ایٹمی توانائی کے ادارے کے ترجمان کمال وندی نے منگل کو واضح کیا کہ "ایٹمی صنعت کبھی رکے گی نہیں"۔

ادھر ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا کہ ان کا ملک امریکی حملوں سے پہلے ہی اپنی تنصیبات کی بحالی کے لیے تیار تھا۔

"ناقابلِ انکار حق"

اقوامِ متحدہ میں ایران کے مندوب امیر سعید ایروانی نے اعلان کیا کہ ایران اپنے "پرامن ایٹمی توانائی کے ناقابلِ انکار حق" سے دستبردار نہیں ہوگا۔

اگرچہ تہران اب بھی اس حق پر قائم ہے، مگر یہ حق عملی طور پر کیسے بروئے کار لایا جائے گا، اس پر ابہام موجود ہے۔

اس حوالے سے العربیہ/الحدث کے نامہ نگارنے بتایا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کے سمجھوتے کی زیادہ واضح تصویر سامنے آ سکتی ہے۔

ابھی کوئی تحریری معاہدہ موجود نہیں

نامہ نگار کے مطابق تاحال کوئی باضابطہ یا تحریری معاہدہ تیار نہیں ہوا۔ یہ صرف جنگ بندی کا اعلان ہے کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں۔

ادھر اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا اندازہ ہے کہ فوردو کی ایٹمی تنصیب کے ملبے تلے یورینیم کا بڑا حصہ دفن ہو چکا ہے۔

تاہم اسرائیل اس بات کی بھی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ایران اس یورینیم کا کچھ حصہ بچا کر دیگر خفیہ مقامات پر منتقل کرنے میں کامیاب ہوا ہے یا نہیں۔ یہ مقامات نطنز، اصفہان اور فوردو کی حدود سے باہر ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب، ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی حیثیت بھی تاحال واضح نہیں، خاص طور پر جب کہ تہران نے کئی بار کہا ہے کہ اس کا دفاعی حق قابلِ مذاکرہ نہیں۔

اسرائیل کی طرف سے بھی بارہا یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے ایران میں بیلسٹک میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز کی اکثریت کو تباہ کر دیا ہے۔

دنیا کی نظریں آنے والے وقت پر مرکوز

مبصرین اور عالمی برادری کی نظریں اب آنے والے چند گھنٹوں پر مرکوز ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ کمزور سی جنگ بندی کب تک قائم رہ سکتی ہے اور آیا کوئی اصولی نکات واقعی طے پا چکے ہیں یا نہیں۔

"کھیل ابھی ختم نہیں ہوا"

امریکہ نے ہفتے کی شب فردو، نطنز اور اصفہان کی ایٹمی تنصیبات کو "بی-2" اسٹیلتھ بمبار طیاروں سے نشانہ بنایا، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اسے "شاندار عسکری کامیابی" قرار دیا۔

تہم اب تک ان حملوں کے نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ایک مشیر نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اب بھی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے اور یہ کہ "کھیل ابھی ختم نہیں ہوا"۔

ادھر اسرائیل نے بھی گزشتہ روز دعویٰ کیا کہ اس نے فوردو کی تنصیب کی طرف جانے والے راستے کاٹنے کے لیے فضائی حملے کیے۔

واضح رہے کہ 13 جون سے اسرائیل نے ایران پر وسیع حملے شروع کیے تھے، جس کا مقصد ایران کو جوہری بم بنانے سے روکنا بتایا گیا تھا۔ مگر ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں