ایران کا ہمارے ساتھ دوبارہ تعاون کرنا ایک کامیاب معاہدے کی کنجی ہے : گروسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائیل گروسی نے منگل کے روز انکشاف کیا کہ انھوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو ایک پیغام بھیجا ہے، جس میں ان سے ملاقات کی تجویز دی گئی ہے اور جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔

"کامیاب معاہدے کی کنجی"

گروسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پیغام میں کہا کہ اگر ایران دوبارہ ایجنسی کے ساتھ تعاون شروع کرتا ہے تو یہ اس طویل عرصے سے جاری جوہری تنازع کا سفارتی حل نکالنے میں مدد گار ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا "ایران کا ہمارے ساتھ دوبارہ تعاون کرنا ایک کامیاب معاہدے کی کنجی ہے"۔

یہ بیان ایسے وقت آیا جب ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد سلامی نے منگل کو کہا کہ ایران نے جوہری شعبے کی بحالی اور مرمت کے لیے پہلے سے ہی انتظامات کر رکھے تھے۔ انھوں نے سرکاری ٹی وی کو بتایا "ہم نے پہلے سے ضروری اقدامات کیے ہوئے تھے، اور اب نقصانات کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ تنصیبات کی بحالی ہماری منصوبہ بندی کا حصہ تھی، اور ہمارا ہدف پیداوار یا مرمت میں کسی تعطل سے بچنا ہے۔"

ادھر ابھی تک اصفہان، نطنز اور انتہائی محفوظ فردو تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ اگرچہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی سیٹلائٹ تصاویر سے واضح ہوتا ہے کہ فردو تنصیب پر امریکی حملے نے اس جگہ اور وہاں موجود یورینیم افزودگی کے سینٹری فیوجز کو شدید نقصان پہنچایا، اور ممکنہ طور پر تباہ کر دیا۔

متعدد ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ ایران نے غالباً فردو سے ہتھیاروں کی سطح سے قریب تر افزودہ یورینیم کا ذخیرہ اور دیگر جوہری اجزاء نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیے ہیں، جو اسرائیل، امریکہ اور اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی دسترس سے باہر ہیں۔

"میکسر ٹیکنالوجیز" کی جانب سے جمعرات اور جمعہ کے روز لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں فردو کے مقام پر غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی، اور تنصیب کے دروازے پر بڑی تعداد میں گاڑیاں کھڑی نظر آئیں۔

ادھر ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے اتوار کے روز تصدیق کی تھی کہ امریکہ کے حملے سے قبل 60 فی صد کی سطح پر افزودہ یورینیم (جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب ہے) کا بڑا حصہ کسی دوسرے مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

ٹرمپ کی اعلان کردہ جنگ بندی کی خلاف ورزی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران اور اسرائیل نے مکمل جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جو منگل کو گرین وچ وقت کے مطابق صبح چار بجے سے نافذ ہو گئی، اور یہ دونوں ملکوں کے درمیان 12 روزہ جنگ کا با ضابطہ اختتام ہو گا۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا تھا کہ "ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل اور جامع جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے"۔

تاہم اس کے فوراً بعد اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس پر میزائل داغے گئے ہیں اور اس نے اعلان کیا کہ وہ پوری قوت سے جواب دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں